سُرمہ چشم آریہ — Page 84
روحانی خزائن جلد ۲ ۷۲ سرمه چشم آرید (۲۳) اعتقاد و حسن ظن و اطاعت واتباع مخبر صادق و کلام الہی ہے لیکن وہ لوگ اپنے غلط فلسفہ کی وجہ سے مذہب کی حقیقت کچھ اور ہی سمجھ رہے ہیں سو انہیں لازم ہے کہ تعصب اور خود پسندی کے شور و غوغا سے اپنے تیں الگ کر کے سیدھی نظر اور سیدھے خیال سے اس سوال پر غور کریں کہ ایمان کیا شے ہے اور اس پر ۲۴ حاشیه بقیه پر برکت اثر لاکھوں دلوں پر وہ ڈالتا آیا ہے ۔ وہ بلا شبہ صفات کمالیہ حق تعالیٰ کا ایک نہایت مصفا آئینہ ہے جس میں سے وہ سب کچھ ملتا ہے جو ایک سالک کو مدارج عالیہ معرفت تک پہنچنے کے لئے درکار ہے۔ اور جیسا کہ ہم عنوان اس حاشیہ پر لکھ چکے ہیں معرفت حقانی کے عطا کرنے کے لئے تین دروازے قرآن شریف میں کھلے ہوئے ہیں ایک عقلی یعنے خدائے تعالیٰ کی ہستی اور خالقیت اور اس کی توحید اور قدرت اور رحم اور قیومی اور مجازات وغیرہ صفات کی شناخت کے لئے جہاں تک علوم عقلیہ کا تعلق ہے استدلالی طریق کو کامل طور پر استعمال کیا ہے اور اس استدلال کے ضمن میں صناعت منطق وعلم بلاغت و فصاحت و علوم طبیعی و طبابت و بیست و هندسه و دقائق فلسفیه وطریق جدل و مناظرہ وغیرہ تمام علوم کو نہایت لطیف و موزوں طور پر بیان کیا ہے جس سے اکثر دقیق مسائل کا بیچ کھلتا ہے۔ پس یہ طرز بیان جو فوق العادت ہے از قسم اعجاز عقلی ہے کیونکہ بڑے بڑے فیلسوف جنہوں نے منطق کو ایجاد کیا اور فلاسفی کے قواعد مرتب کئے اور بہت کچھ طبعی اور بیت میں کوشش و مغز زنی کی وہ باعث نقصان عقل اپنے ان علوم سے اپنے دین کو مدد نہیں دے سکے اور نہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر سکے اور نہ اوروں کو فائدہ دینی پہنچا سکے بلکہ اکثر ان کے دہر یہ اور محمد اور ضعیف الایمان ر ہے اور جو بعض ان میں سے کسی قدر خدائے تعالی پر ایمان لائے انہوں نے ضلالت کو صداقت کے ساتھ ملا کر اور خبیث کو طیب کے ساتھ مخلوط