سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 85

روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آریہ ثواب مترتب ہونے کی کیوں امید کی جاتی ہے سو جاننا چاہیے کہ ایمان اس اقرار لسانی و تصدیق قلبی ۲۵۶ سے مراد ہے جو تبلیغ و پیغام کسی نبی کی نسبت محض تقویٰ اور دوراندیشی کے لحاظ سے صرف نیک ظنی کی بنیاد پر یعنی بعض وجوہ کو معتبر سمجھ کر اور اس طرف غلبہ اور رجحان یا کر بغیر انتظار کامل اور قطعی اور بقیه کر کے راہ راست کو چھوڑ دیا۔ پس یہ الہی عقل از قبیل خارق عادت ہے جس کے (۲۵) حاشیه استدلال میں کوئی غلطی نہیں اور جس نے علوم مذکورہ سے ایک ایسی شائستہ خدمت لی ہے جو کبھی کسی انسان نے نہیں لی اور اس کے ثبوت کے لئے یہی کافی ہے کہ دلائل وجود باری عزاسمہ اور اس کی توحید و خالقیت وغیرہ صفات کمالیہ کے اثبات میں بیان قرآن شریف کاایسا محیط و حاوی ہے جس سے بڑھ کر ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان کوئی جدید بر بان پیش کر سکے اگر کسی کو شک ہو تو وہ چند دلائل عقلی متعلق اثبات ہستی باری عزاسمہ یا اس کی توحید یا اس کی خالقیت یا کسی دوسری الہی صفت کے متعلق بطور امتحان پیش کرے تا بالمقابل قرآن شریف میں سے وہی دلائل یا ان سے بڑھ کر اس کو دکھلائے جائیں جس کے دکھلانے کے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں غرض یہ دعوئی اور یہ تعریف قرآنی لاف و گذاف نہیں بلکہ حقیقت میں حق ہے اور کوئی شخص عقائد حقہ کے اثبات میں کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کر سکتا جس کے پیش کرنے سے قرآن شریف غافل رہا ہو۔ قرآن شریف بآواز بلند بیسیوں جگہ اپنے احاطہ تامہ کا دعویٰ پیش کرتا ہے چنانچہ بعض آیات ان میں سے ہم اس حاشیہ میں درج بھی کر چکے ہیں سواگر کوئی طالب حق آزمائش کا شائق ہو تو ہم اس کی تسلی کامل کرنے کے لئے مستعد اور تیار اور ذمہ وار ہیں مگر افسوس تو یہ ہے کہ اس پر غفلت اور لاپروائی اور بے قدری کے زمانہ میں ایسے لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں جو صدق دلی سے طالب حق ہو کر اس خاصیت عظمی و معجزہ کبری کی آزمائش چاہیں بلکہ وہ اسی میں اپنی سرخروئی سمجھ لیتے ہیں کہ بات کو ۔