سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 83

روحانی خزائن جلد ۲ اے سرمه چشم آریہ میں دیکھتا ہوں کہ ان کی روحانی زندگی بہت ہی کمزور ہوگئی ہے اور ان کی بے جا آزادی (۲۳) اور ضعف ایمان نے بہت ہی برا اثر ان کے ارادت باطنی اور ان کی دینی اولوالعزمی اور ان کی اندرونی حالت پر ڈالا ہے اور عجیب طور پر انہوں نے ضلالت کو صداقت کے ساتھ ملا دیا ہے۔ مذہب وہ چیز ہے جس کی برکات کی اصل جڑھ ایمان و اعتبار وحسن بقیه گھر خرابی کی حالت میں رہتا ہے پس جس جگہ مصفوت و عصمت و تقبل و محبت کامل و تام (۲۳) حاشیه و حزن و در دو شوق و خوف ہے اس جگہ انوار وحی کے کامل تجلیات بغیر آمیزش کسی نوع کی ظلمت کے وارد ہوتے رہتے ہیں اور آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے رہتے ہیں اور جس جگہ یہ مرتبہ کمال تام کا نہیں اس جگہ وحی بھی اس عالی مرتبہ سے منزل ہوتی ہے۔ غرض وحی الہی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں خدائے تعالیٰ کی صفات کمالیہ کا چہرہ حسب صفائی باطن نبی منزل علیہ کے نظر آتا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق وصفا وتوکل و وفا اور عشق الہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل وارفع و اجلی واصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر دو معصوم تر و روشن تر و عاشق تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقوئی واکمل وارفع واتم ہو کر صفات الہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔ سو یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف ایسے کمالات عالیہ رکھتا ہے جو اس کی تیز شعاعوں اور شوخ کرنوں کے آگے تمام صحف سابقہ کی چمک کالعدم ہو رہی ہے کوئی ذہن ایسی صداقت نکال نہیں سکتا جو پہلے ہی سے اس میں درج نہ ہو۔ کوئی فکر ایسے برہان عقلی پیش نہیں کر سکتا جو پہلے ہی سے اس نے پیش نہ کی ہو۔ کوئی تقریر ایسا قومی اثر کسی دل پر ڈال نہیں سکتی جیسے قومی اور