سراجِ منیر — Page 45
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۷ سراج منیر یہودیوں کی ہر روز کی دھمکیوں سے ان کی جان خطرہ میں تھی ۔ اور یہودی لوگ ایک ایسی موت کی ان کو دھمکی دیتے تھے جس موت کو ایک مجرمانہ موت سمجھ سکتے ہیں اور جس پر تو ریت کے رو سے بھی راستبازی کی شان کو دھبہ لگتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسے پر خطر وقت میں (۴۰) ایسی پلید اور لعنتی موت سے ان کو بچا لیا۔ پس اس الہام میں جو اسی آیت کے ساتھ اس عاجز کو ہوا یہ ایک نہایت لطیف پیشگوئی ہے جو آج کے دن سے سترہ برس پہلے کی گئی اور یہ ۴۱ ) ۔ ۱۷ بآواز بلند بتلا رہی ہے کہ وہی واقعہ اس جگہ بھی پیش آئے گا ۔ اور اس عاجز کو عیسی کے نام سے مخاطب کر کے یہ کہنا کہ اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا ۔ یہ در حقیقت اس واقعہ کا نقشہ دکھلانا ہے جو حضرت عیسی کو پیش آیا تھا اور وہ واقعہ یہ تھا اس سازش سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس میں گورنمنٹ کو یہ پر چہ یہ جتلانا چاہتا ہے کہ کیا ایسا شخص جس نے میعاد مقرر کر دی قتل کا دن بتلا دیا اور زبان سے کہتا رہا کہ فلاں دن مرے گا اس کو قتل کے منصوبہ میں کچھ سازش نہیں؟ پھر ایک اور اخبار جس کا نام اخبار عام ہے اس کے پرچہ ۱۶ مارچ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳ میں الکرام کے قاتل کی نسبت لکھا ہے کہ طرح طرح کی افواہیں مشہور ہیں۔ اور قادیانی صاحب کا رویہ سب سے نرالا ہے ۔ سخت افسوس سے قبول کرنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی صاحب کا فرض ہے کہ جب الہام کے زور سے انہوں نے لیکھرام کے قتل کی پیشگوئی کی تھی اسی الہام کے زور سے بتلا دیں کہ قاتل اس کا کون ہے پھر ایڈیٹر اخبار عام اپنے پر چہ ار مارچ ۱۸۹۷ء میں لکھتا ہے کہ اگر ڈپٹی صاحب یعنی آتھم کے ساتھ ایسا واقعہ ہو جاتا جس کا خمیاز و لیکھرام کو بھگتنا پڑا تب اور صورت تھی، یعنی اس حالت میں گورنمنٹ پیشگوئی کرنے والے سے ضرور مواخذہ کرتی ۔ ایسا ہی انہیں ہند میرٹھ لیکھرام کے مارے جانے کی طرف اشارہ کر کے اپنے پر چہ مارچ میں لکھتا ہے کہ ”ہمارا ما تھا تو اسی وقت ٹھنکا تھا کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے لیکھرام کی موت کی نسبت پیشگوئی کی تھی کیا اس کو علم غیب تھا ۔ اور ایسا ہی کئی اور ہندو اخباروں میں متفرق طریقوں سے اپنے مفسدانہ خیالات کو ظاہر کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پنجاب میں ان کے ان مفسدانہ منصوبوں کا ایسا شور پڑا ہوا ہے کہ شاذ نادر کوئی ان سے بے خبر ہوگا ۔ منہ