سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 494

سراجِ منیر — Page 44

۴۰ روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۶ سراج منیر الہام ہوئی یعنی یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی اور جیسا کہ ابھی میں لکھ چکا ہوں اس بشارت کی حضرت عیسی کے حق میں بھی ضرورت پڑی تھی کہ اس وقت کی پیشگوئی ہے، پھر اسی اخبار کے صفحہ ۶ میں لکھا ہے کہ ”مرزا صاحب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پنڈت جی کی موت دوسری شوال کو ہوئی تھی یعنی پیشگوئی میں جو دوسری شوال کی طرف اشارہ تھا اور ویسا ہی وقوع میں آیا تو بس یہ کافی دلیل ہے کہ پیشگوئی کرنے والے کی سازش سے یہ قتل ظہور میں آیا ۔ پھر یہی اخبارہ ار مارچ ۱۸۹۷ء کے پرچہ میں لکھتا ہے ۔ ایک حضرت نے (یعنی اس عاجز نے ) اپنی مصنفہ کتاب موعود مسیحی میں یہ پیشنگوئی بھی کی تھی کہ پنڈت لیکھرام چھ سال کے عرصہ میں عید کے دن نہایت درد ناک حالت میں مرے گا۔ اب یہ پرچہ عید کے دن کا نام لے کر گورنمنٹ کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ایسا پتہ دینا انسان کے منصوبہ پر دلالت کرتا ہے مگر عید کا دن بیان کرنے میں غلطی کرتا ہے۔ الہام الہی میں دوسری شوال کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ پھر اسی بقيه حاشيه ☆ پر چہ کے صفحہ ۲ میں لکھتا ہے قتل کے لئے آدمی مقرر کیا گیا۔ ادھر سے مصنف موعود مسیحی کی پیشگوئی بھی قریب تھی کیونکہ غالبا ۱۸۹۷ء چھٹا سال تھا اور پانچ مارچ سنہ حال آخری عید چھٹے سال کی تھی۔ اس میں جس قدر غلطیاں ہیں حاجت بیان نہیں۔ بہر حال اس تقریر سے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ منصوبہ مقرر کیا گیا تھا کہ عید پر یا عید کے قریب قتل کیا جائے۔ پھر اسی خیال کو قوت دینے کے لئے اسی اخبار میں لکھتا ہے کہ قبل کئی ایک اشخاص کی مدت کی سوچی اور کبھی ہوئی اور پختہ سازش کا نتیجہ ہے جس کی تجاویز امر تسر اور گورداسپورہ کے نزدیک اور ادھر دبلی اور بمبئی کے ارد گرد مدت سے ہو رہی تھیں ۔ کیا یہ غیر اغلب ہے کہ اس سازش کا جنم ان اشخاص سے ہوا ہو کہ جو علانیہ بذریعہ تحریر و تقریر کہا کرتے تھے کہ پنڈت کو مار ڈالیں گے اور مزید براں یہ کہ پنڈت اس عرصہ میں اور فلاں دن ایک درد ناک حالت میں مرے گا۔ کیا آریہ دھرم کے مخالف چند ایک کتب کے ایک خاص مصنف کو خدا تعالیٰ نے الہام میں لیکھرام کا نام عجل جسد له خوار رکھا ہے یعنی گوسالہ سامری ۔ اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ عید کے دنوں میں وہ ہلاک ہوگا کیونکہ توریت میں اب تک لکھا ہوا موجود ہے کہ سامری کا گوسالہ بھی عید کے دن نیست و نابود کیا گیا تھا اور عید کا دوسرا دن بھی عید کے حکم میں ہے۔ منہ