سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 494

سراجِ منیر — Page 33

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۵ سراج منیر بعض آریہ اخبار والوں نے یہ تعجب کیا کہ لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی ہے اور اس کی مدت بتائی گئی۔ دن بتایا گیا۔ موت کا ذریعہ بتایا گیا۔ یہ باتیں کب ہو سکتی ہیں جب تک ایک بھاری سازش اس کی بنیاد نہ ہو ۔ چنانچہ پر چضمیمہ سا چار لا ہور ار مارچ ۱۸۹۷ ء اور ضمیمہ انہیں ہند میرٹھے ۱۰ سر مارچ ۱۸۹۷ ء نے اس بارے میں بہت زہرا گلا ہے۔ ایڈیٹر انیس ہندا اپنے پرچہ کے ۱۳ صفحہ میں یہ بھی لکھتا ہے کہ ”ہمارا ماتھا تو اسی وقت ٹھنکا تھا جب مرزا غلام احمد قادیانی نے آپ کی وفات کی بابت پیشین گوئی کی تھی ورنہ ان حضرت کو کیا علم غیب تھا ؟ اب واضح ہو کہ یہ تمام صاحب آپ اس بات کو تنقیح طلب ٹھہراتے ہیں کہ کیا خدا نے اس شخص کو علم غیب دیا تھا ؟ اور کیا خدا سے ایسا ہو ناممکن ہے؟ سو اس وقت ہم بطور نمونہ بعض اور پیشگوئیوں کو درج کرتے ہیں تا ان نظائر کو دیکھ (۳۰ کر آریہ صاحبوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ یہ ہیں: اول ۔ احمد بیگ ہوشیار پوری کی موت کی پیشگوئی ۔ جس کی نسبت لکھا گیا تھا کہ وہ تین برس کی میعاد میں فوت ہو جائے گا۔ اور ضرور ہے کہ اپنے مرنے سے پہلے اور مصیبتیں بھی دیکھے۔ چنانچہ اس نے اس اشتہار کے بعد اپنے پسر کے فوت ہونے کی مصیبت دیکھی ۔ اور پھر اس کی ہمشیرہ عزیزہ کی وفات کا ناگہانی واقعہ اس کی نظر کے سامنے وقوع میں آیا ۔ اور بعد اس کے وہ تین سال کی میعاد کے اندر خود بمقام ہوشیار پور فوت ہو گیا آب ہی اس پیشگوئی کے دو حصے تھے ایک احمد بیگ کی نسبت اور ایک اس کے داماد کی نسبت اور پیشگوئی کے بعض الہامات میں جو پہلے سے شائع ہو چکے تھے یہ شرط تھی کہ تو بہ اور خوف کے وقت موت میں تا خیر ڈال دی جائے گی سو افسوس کہ احمد بیگ کو اس شرط سے فائدہ اٹھانا نصیب نہ ہوا کیونکہ اس وقت اس کی بدقسمتی سے اس نے اور اس کے تمام عزیزوں نے پیشگوئی کو انسانی مکر اور فریب پر حمل کیا اور ٹھٹھا اور جنسی شروع کر دی اور وہ ہمیشہ ٹھٹھا اور ہنسی کرتے تھے کہ پیشگوئی کے وقت نے اپنا منہ دکھلا دیا اور احمد بیگ ایک محرقہ تپ کے ایک دو دن کے حملہ سے ہی اس جہان سے رخصت ہو گیا ۔ تب تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور داماد کی بھی فکر پڑی اور خوف اور تو بہ اور نماز روزہ میں عورتیں لگ گئیں اور مارے ڈر کے ان کے کلیجے کانپ اٹھے۔ پس ضرور تھا کہ اس درجہ کے خوف کے وقت خدا اپنی شرط کے موافق عمل کرتا۔ سو وہ لوگ سخت احمق اور کاذب اور ظالم ہیں جو کہتے ہیں کہ داماد کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ وہ بد سہی طور پر حالت موجودہ کے موافق پوری ہو گئی ۔ اور دوسرے پہلو کی انتظار ہے۔ منہ