سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 494

سراجِ منیر — Page 32

۳۴ سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ لم يكن الذين كفروا من اهل الكتاب والمشركين منفكين حتى تاتيهم البينة و كان كيدهم عظیما یعنی ممکن نہ تھا کہ نصاریٰ اور مخالف مسلمان اور ہندو اپنے انکاروں سے باز آ جاتے جب تک ان کو کھلا کھلا نشان نہ ملتا اور ان کا مکر بہت بڑا تھا۔ پھر بعد اس کے اسی صفحہ میں (۲۹) فرمایا کہ اگر خدا ایسانہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پادریوں نے آتھم کی پیشگوئی کو باعث اپنے اخفاء کے لوگوں پر مشتبہ کر دیا تھا پس اگر لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی تھی جس کی شوخیوں نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ رجوع کرنے والا نہیں ایسی ہی مخفی رہ جاتی تو تمام حق خاک میں مل جاتا اور نادان لوگوں کے خیالات سخت ناپاک ہو جاتے اور جاہل قریب قریب دہریوں کے بن جاتے ۔ سو آسمانوں اور زمینوں کے مالک نے چاہا کہ لیکھر ام حق کے اظہار کا فدیہ ہو اور بچے دین کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے بطور بلید ان کے ہو جائے ۔ سو وہی ہوا جو خدا نے چاہا۔ ایک انسان کے مارے جانے کی ہمدردی بجائے خود ہے مگر یہ بات بہت دلوں کو تاریکی سے نکالنے والی ہے کہ خدا نے جلسہ مذاہب کے نشان کے بعد یہ ایک عظیم الشان نشان دکھلایا۔ چاہیے کہ ہر یک روح اس ذات کو سجدہ کرے جس نے ایک بندہ کی جان لے کر ہزاروں مردوں کو زندہ کرنے کی بنیاد ڈالی اور پھر اسی پیشگوئی کی طرف براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۲ میں یہ الہام اشارہ فرماتا ہے کہ بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔ پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار ۔ رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے مونہہ کی باتیں ہیں۔ پس جس عظیم الشان نشان کا اس الہام میں وعدہ ہے وہ یہی ہے جس سے مطابق الہام ھذا کے اعلاء کلمہ اسلام ہوا اور صفحہ ۵۵۷ براہین احمدیہ میں اسی نشان کا ذکر ہے جس کا پہلا فقرہ یہ ہے کہ میں اپنی چمکا ر دکھلاؤں گا۔ یعنی ایک جلالی نشان ظاہر کروں گا۔ اور سرمہ چشم آریہ میں ایک کشف ہے جس کو گیارہ برس ہو گئے جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا نے ایک خون کا نشان دکھلایا وہ خون کپڑوں پر پڑا جواب تک موجود ہے یہ خون کیا تھا وہی لیکھرام کا خون تھا۔ خدا کے آگے جھک جاؤ کہ وہ برتر اور بے نیاز ہے!!!