سراجِ منیر — Page 34
۳۶ سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۳ بتاؤ کہ اس کی موت میں میری طرف سے کس کے ساتھ سازش ہوئی تھی۔ کیا تپ محرقہ کے ساتھ ؟! دوسری پیشگوئی شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کی مصیبت کے بارے میں تھی جو اس پر ناحق کے خون کا الزام لگایا گیا تھا۔ شیخ مذکور ہوشیار پور میں زندہ موجود ہے اس کو پوچھو کہ کیا اس مقدمہ کے آثار ظاہر ہونے سے پہلے میں نے اپنے خدا سے خبر پا کر کوئی اطلاع اس کو دی ہے یا نہیں؟ تیسری پیشگوئی سردار محمد حیات خان حج کی نسبت اس وقت کی گئی تھی جبکہ سردار مذکور ایک ناحق کے الزام میں ماخوذ ہو گیا تھا۔ اب پوچھنا چاہیے کہ کیا در حقیقت کوئی ایسی پیشگوئی نامبردہ کی مخلصی کے بارے میں پیش از وقت کی گئی تھی یا اب بنائی گئی ہے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس پیشگوئی کا براہین میں بھی ذکر ہے۔ چوتھی پیشگوئی سید احمد خان کے سی ایس آئی کی نسبت خدا تعالیٰ سے الہام پا کر اشتہار یکم فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی تھی کہ ان کو کوئی سخت صدمہ پہنچنے والا ہے ۔ اب سید احمد خان صاحب کو پوچھنا چاہیے کہ اس پیشگوئی کے بعد آپ کو کوئی ایسا سخت صدمہ پہنچا ہے یا نہیں جو معمولی ہم و غم نہ ہو بلکہ وہ امر ہو جو جان کو زیروزبر کر نے والا ہو۔ پانچویں پیشگوئی میں نے اپنے لڑ کے محمود کی پیدائش کی نسبت کی تھی کہ وہ اب پیدا ہو گا اور اس کا نام محمود رکھا جائے گا اور اس پیشگوئی کی اشاعت کے لئے سبز ورق کے اشتہار شائع کئے گئے تھے جو اب تک موجود ہیں اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ لڑکا پیشگوئی کی میعاد میں پیدا ہوا اور اب نویں سال میں ہے ۔ بعض جاہل محض جہالت سے یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ جب پہلے لڑکے کا اشتہار دیا تھا اس وقت لڑکی کیوں پیدا ہوئی مگر وہ خوب جانتے ہیں کہ اس اعتراض میں وہ سراسر خیانت کر رہے ہیں۔ اگر وہ بچے ہیں تو ہمیں دکھلا دیں کہ پہلے اشتہار میں یہ لکھا تھا کہ پہلے ہی حمل میں بلا واسطہ لڑکا پیدا ہو جائے گا اور اگر پیدا ہونے کے لئے کوئی وقت اس اشتہار میں بتلایا نہیں گیا تھا تو کیا خدا کو اختیار نہیں تھا کہ جس وقت چاہتا اپنے وعدہ کو پورا کرتا۔ ہاں سبز اشتہار میں صریح لفظوں میں بلا توقف لڑکا پیدا ہونے کا وعدہ تھا۔ سو محمود پیدا ہو گیا ۔ کس قدر یہ پیشگوئی عظیم الشان ہے اگر خدا کا خوف ہے تو پاک دل کے ساتھ سوچو! منه