سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxix of 494

سراجِ منیر — Page xxix

ہوگا یا صلیب کا‘‘ ہیگ کے کثیر الاشاعت اخبار 'Nicnvoe Mangsoh Couront' نے ۲۰؍ ستمبر ۱۹۵۸ء کی اشاعت میں زیر عنوان ’’مغربی یورپ میں اسلامی مہم کا آغاز‘‘ لکھا ہے کہ ’’اسلام کسی ایک خاص قوم یا علاقہ کا مذہب نہیں۔اور موجودہ عالمی مشکلات کا حل اس میں مضمر ہے۔۔۔۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ گیارہ بارہ سال کے عرصہ میں یورپ نے بہت بڑی تعداد میں اسلام کو عملاً قبول نہیں کیا۔مگر یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اس عرصہ میں جماعت احمدیہ کی کوششوں سے ایک بھاری تعداد اسلام سے ہمدردی رکھنے والوں کی ضرور پیدا ہو گئی ہے۔جو بہت ہی خوشگوار اور امید افزا ہے۔‘‘ اِسی طرح ہالینڈ کے مختلف شہروں کے پانچ اخبارات نے زیر عنوان ’’اِسلامی ہلال یورپ کے افق پر ‘‘ سوالیہ نشان دے کر لکھا کہ:۔’’یورپ کا نوجوان طبقہ عیسائیت سے کچھ بیزار ہو رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ کسی بھی دوسری چیز کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے۔دوسری طرف اسلام یورپ میں اتحاد کا علم لئے ہوئے ہے اور یہ نوجوان اُدھر مائل ہو رہے ہیں اِس بہاؤ کو روکنے کے لئے اور اس تبلیغ کے اثرات کو تھامنے کے لئے جس کا سب سے طاقتور انجن جماعت احمدیہ ہے ہمیں اُن کی راہ میں ایک مضبوط ستون گاڑنا ہو گا۔‘‘ پھر موجودہ صدی کے عالمی شہرت رکھنے والے مصنّف جارج برنارڈشا لکھتے ہیں:۔’’مجھے یقین ہے کہ ساری برطانوی سلطنت ایک قسم کا اصلاح شدہ اسلام اس صدی کے اختتام پر قبول کر لے گی۔مَیں نے محمدؐ کے دین کو ہمیشہ بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔میرے نزدیک یہی مذہب بدلتے ہوئے زمانۂ حیات کے مقابل پر ایسی اہلیت رکھتا ہے۔جس کی وجہ سے یہ ہر زمانہ کے لوگوں کو اپیل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔اب یورپ محمدؐ کے مذہب کے اصولوں کو سمجھنے لگا ہے اور آئندہ صدی میں یورپ اس بات کو اور زیادہ تسلیم کر لے گا کہ اسلام کے اصول اس کی اُلجھنوں کو حل کر سکتے