سراجِ منیر — Page xxv
جگمگ کر رہا ہے۔یہ صورت حال پیش خیمہ ہے اس آنے والے انقلاب کا کہ جب قاہرہ۔دمشق اور طہران کے شہر خداوند یسوع مسیح کے خدّام سے آباد نظر آئیں گے۔حتّٰی کہ صلیب کی چمکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی وہاں بھی پہنچے گی۔اِس وقت خداوند یسوع اپنے شاگردوں کے ذریعہ مکّہ کے شہر اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہو گا اور بالآخر وہاں اس حق و صداقت کی منادی کی جائے گی کہ ’’ابدی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور یسوع مسیح کو جانیں جسے تونے بھیجا ہے۔‘‘ (بیروز لیکچرز صفحہ ۴۲) مگر اس کے مقابلہ میں اِسی سال (۱۸۹۷ ء) میں اسلام کے بطلِ جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس کے متعلق آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ وہ کاسر الصلیب ہو گا اور اس کے ذریعہ عیسائیت کو شکست اور اسلام کو غلبہ حاصل ہو گا اپنی کتاب ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ میں عیسائیوں کے متعلق فرمایا کہ اِن کو بے قیدی اور اباحت کا آرام تو ملا ہے۔’’لیکن رُوحانی آرام جو خدا کے وصال سے ملتا ہے اِس کے بارے میں تو میں خدا کی دُہائی دے کر کہتا ہوں کہ یہ قوم اس سے بالکل بے نصیب ہے ان کی آنکھوں پر پردے اور ان کے دل مُردہ اور تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔یہ لوگ سچے خدا سے بالکل غافل ہیں اور ایک عاجز انسان کو جو ہستئازلی کے آگے کچھ بھی نہیں ناحق خدا بنا رکھا ہے۔ان میں برکات نہیں ان میں دل کی روشنی نہیں۔ان کو سچے خدا کی محبت نہیں بلکہ اس سچے خدا کی معرفت بھی نہیں۔اِن میں کوئی بھی نہیں ہاں ایک بھی نہیں جس میں ایمان کی نشانیاں پائی جاتی ہوں۔اگر ایمان کوئی واقعی برکت ہے تو بے شک اس کی نشانیاں ہونی چاہئیں۔مگر کہاں ہے کوئی ایسا عیسائی جس میں یسوع کی بیان کردہ نشانیاں پائی جاتی ہوں؟ پس یا تو انجیل جھوٹی ہے اور یا عیسائی جھوٹے ہیں دیکھو قرآن کریم نے جو نشانیاں ایمانداروں کی بیان فرمائیں وہ ہر زمانہ میں پائی گئی ہیں قرآن شریف فرماتا ہے کہ ایمان دار کو الہام ملتا ہے۔ایماندار خدا کی آوازسنتا ہے۔ایماندار کی دُعائیں سب سے زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ایماندار پر غیب کی خبریں ظاہر کی