سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 494

سراجِ منیر — Page xxiv

’’دنیائے عیسائیت کا عروج آج اس درجہ زندہ حقیقت کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ یہ درجۂ عروج اُسے اس سے پہلے کبھی نصیب نہ ہوا تھا۔ذرا ہماری ملکۂ عالیہ (ملکہ وکٹوریہ) کو دیکھو جو ایک ایسی سلطنت کی سربراہ ہے جس پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔دیکھو وہ ناصرہ کے مصلوب کی خانقاہ پر کمال درجہ تابعداری سے احتراماً جھکتی اور خراج عقیدت پیش کرتی ہے یا پھر گاؤں کے گرجا میں جا کر نظر دوڑاؤ اور دیکھو۔وہ سیاسی مدبّر (وزیراعظم برطانیہ) جس کے ہاتھوں میں ایک عالمگیر سلطنت اور اُس کی قسمت کی باگ ڈور ہے جب یسوع مسیح کے نام پر دُعا کرتا ہے تو کیسی عاجزی اور انکساری سے اپنا سر جھکاتا ہے۔دیکھو جرمنی کے نوجوان قیصر کو جب وہ خود اپنے لوگوں کے لئے بطور پادری فرائض سر انجام دیتا تو یسوع مسیح کے مذہب یعنی دین عیسائیت سے اپنی وفاداری کا اظہار کرتا ہے اور مشرقی انداز پر ماسکو کے شاہانہ ٹھاٹھ پاٹ میں زار رُوس کو دیکھو۔تاجپوشی کے وقت ابن آدم کے طشت میں رکھ کر اُسے تاج پیش کیا جاتا ہے۔یا پھر مغربی جمہوریت (امریکہ) کے ایک صدر کے بعد دوسرے صدر کو دیکھو۔کہ اُن میں سے ہر ایک عبادت کے نسبتاً سادہ لیکن عمیق اسلوب میں ہمارے خداوند کے ساتھ وفاداری اور تابعداری کا اظہار کرتا چلا جاتا ہے۔امریکی، برطانوی، جرمنی اور روسی سلطنتوں کے حکمران اقرار کرتے ہیں کہ وہ یسوع مسیح کے وائسرائے ہیں۔اور اِسی حیثیت سے اپنی اپنی سلطنتوں میں حکمرا ن ہیں۔کیا اِن سب کے زیر نگیں علاقے مل کر ایک ایسی وسیع و عریض سلطنت کی حیثیت نہیں رکھتے کہ جس کے آگے از منۂ قدیم کی بڑی سے بڑی سلطنت بھی سراسر بے حیثیت نظر آنے لگتی ہے۔‘‘ پھر ’’عیسائیت کے عالمی اثرات‘‘ کے زیر عنوان اپنے ایک پبلک لیکچر میں اسلامی ممالک کے اندر عیسائیت کی عظیم الشان فتوحات پر فخر کرتے ہوئے ڈاکٹر بیروز نے یہ اعلان کیا:۔’’اب میں اسلامی ممالک میں عیسائیت کی روز افزوں ترقی کا ذکر کرتا ہوں۔اِس ترقی کے نتیجہ میں صلیب کی چمکار آج ایک طرف لبنان پر ضوء افگن ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کی چمکار سے جگمگ