شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 548

شحنۂِ حق — Page 437

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۲۳ شحنه حق عقائد کے حق العباد کے مسائل بھی دید کے رو سے ایسے عجیب عجیب بیان ہوئے ہیں کہ بس پڑھنے والا دریائے حیرت میں ڈوب جاتا ہے اور بے اختیار کہنا پڑتا ہے کہ ویدوں کو علاوہ کمالات تو حید کے حق العباد بیان کرنے کا بھی خوب منصفانہ طریق یا د ہے۔ چنانچہ منوجی دیدوں کے رو سے فرماتے ہیں کہ اگر رذیل کی دختر سے کوئی شریف برہمن و غیرہ زنا کر بیٹھے تو کوئی دوش کی بات نہیں کسی قسم کا مواخذہ نہیں لیکن اگر کمینی ذات کا کسی شریف زادی سے ایسی حرکت کرے تو جان سے مار دیا جائے یا وہ خون بہا ادا کرے جولڑکی کے والدین مقرر کریں۔ دیکھو منوسنتھا ادھیا ۸ ۔شلوک ۳۶۵۔ پھر شلوک ۳۸۰ میں لکھا ہے کہ برہمن خواہ کتنے ہی بڑے جرم کا مرتکب ہو ہر گز قتل نہ ہونا چاہیے برہمن کے قتل کے برابر کوئی گناہ نہیں برہمن نیچ ذات کی لڑکی کو اپنی زوجیت میں لاسکتا ہے اور اگر کسی نیچ ذات کے پاس سونا چاندی یا خوب صورت ہو تو برہمن انہیں اپنے تصرف میں لاسکتا ہے لیکن اگر کوئی نیچ ذات ایسا فعل کرے تو جلتے ہوئے لوہے کی چادر پر جلا کر مارا جائے۔ ایسا ہی اگر برہمن کسی شودر کو وید پڑھتا ہواسن پائے تو اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سکہ اور جلتی ہوئی موم ڈالی جائے ۔ اگر وہ اس کی عبارت کو پڑھے تو اس کی زبان کاٹ ڈالنی چاہیے اگر وہ اس کو حفظ کرے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا جسم چاک کر کے اس کا دل نکالا جائے ۔ برہمن سب کا سرتاج ہے اگر کسی برہمن کا سرمایہ ویدوں کی تعلیم حاصل کرنے کے اندر ختم ہو جائے تو اس کو اختیار ہے کہ اپنی حاجت کی چیزیں کسی ولیش یا شودر کے گھر سے خود چرالے یا چوری کر والے۔ بادشاہ کو ایسے مظلوم کی فریاد کو نہ پہنچنا چاہیے۔ شودر کی مکتی اسی میں ہے کہ برہمن کی خدمت