شحنۂِ حق — Page 438
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۲۴ شحنه حق کیا کرے اور سب کام بے فائدہ ہیں نیچ ذات کو روپیہ جمع کرنے کی اجازت نہیں (۷۲) مبادا وہ مالدار ہو کر اونچی ذات کے لوگوں پر حکم کرے ۔ ( دیکھومنوسنتا ادھیا 9 شلوک ۲۳) اب اگر کسی آریہ کو خیال ہو کہ منوجی نے ویدوں کے برخلاف لکھا ہے تو اول تو ایسا خیال خلاف قیاس ہے جس سے منوجی پر نہ صرف یہ الزام آتا ہے کہ انہوں نے دروغ گوئی کی بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ویدوں کے نہایت سخت دشمن اور اپنی ذات میں بدی اور شرک کی طرف مائل تھے پھر ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ منوجی کی تکذیب کچھ آسان بات نہیں بلکہ اس صورت میں ہوسکتی ہے کہ جب بہت سے بھاشیکار پہلے زمانہ کی گواہی دیں کہ ویدوں کا ان مضامین سے درحقیقت دامن پاک ہے اور یہ سب منوجی کے نفس امارہ کی بناوٹ ہے ۔مگر ایسی گواہی تب لائق پذیرائی ہو سکتی ہے کہ بر خلاف ان تمام مضامین کے ویدوں کی شرتیاں پیش کی جائیں جو صاف صاف ان باتوں کا رڈ کرتی ہوں ۔ مگر کیا کسی آریہ کو جرات ہے کہ ایسا کام کر دکھاوے۔ پس جب تک ایسی مجہوری گواہی اور ایسے منتر ویدوں کے پیش نہ ہوں تب تک منوجی پر فرد قرارداد جرم قائم نہیں ہو سکتی بلکہ یہی سمجھا جائے گا کہ یہ سب وید ہی کی کرتوت ہے۔ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” جمہوری “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)