شحنۂِ حق — Page 429
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱۵ شحنه حق کریں اور پھر کسی ثالث کو دکھلا دیں اور دیانندی دھوکوں پر مغرور نہ رہیں اگر چہ ان کے اس وہم کا بڑا مشکل علاج ہے کہ دیانند و ید دانی میں بڑا عالم فاضل تھا مگر تین باتوں کے سوچنے سے یہ مشکل ان کی آسان ہو سکتی ہے ۔ اوّل یہ کہ جن دوسرے قدیم پنڈتوں سے دیانند نے اختلاف کیا ہے در حقیقت کثرت رائے انہیں کی جانب ہے وہی ہیں جو صد ہا بلکہ ہزا ر ہا برسوں سے ویدوں کی دیوتا پرستی کو شائع کرتے آئے ہیں ۔ دوم یہ کہ عملی طور پر جس چیز نے نہایت متشرع اور پر ہیز گار ہندوؤں میں رواج پایا ہے وہ مخلوق پرستی کے عقائد ہیں جو ان کے ایسے مقامات میں جو متبرک اور چشمہ ہدایت خیال کئے جاتے ہیں ایسے وقتوں سے استحکام پذیر ہیں جن کا ابتدا معلوم کرنا مشکل ہے مثلاً شہر بنارس جو ہندوؤں کا ایک دار العلم سمجھا گیا ہے جس میں برہمن اور پنڈت ہر ملک سے آکر دس دس باران باراں سال تک زیر تعلیم رہتے ہیں یہ شہر شرک سے ایسا بھرا ہوا ہے کہ شاید کوئی دوسری اس کی نظیر نہ ہو ۔ اس شہر میں پنڈتوں کے بے شمار دیوتاؤں کے بے شمار مندر ہیں جن میں سے بعض کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ نہایت ہی پرانے اور رشیوں کے وقت کے ہیں ۔ یہ شہر گنگا کے مشرقی کنارہ پر طولاً ڈھائی میل اور عموماً ایک میل تک عرض میں آباد ہے ۔ شاید اس نظر سے کہ گنگا بھی ایک بڑی دیوی ہے ۔ اس کے کنارہ پر یہ آباد کیا گیا ہے اگر چہ ظاہری خوبی اس شہر میں کچھ ایسی نہیں مگر پھر بھی یہ خوبی سمجھی گئی ہے کہ مخلوق پرستی اس پر ختم ہے اکثر ہندو بوڑھے ہو کر اس شہر کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں کیونکہ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے کثرت “ ہونا چاہیے۔(ناشر)