شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 548

شحنۂِ حق — Page 428

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱۴ شحنه حق اسی پر شہادت دے رہا ہے اور وید کے پہلے بھا شیکاروں نے بھی یہی معنے لکھے ہیں اور تناسبات شاعرانہ منتروں کے بھی اسی کو چاہتے ہیں اور جن صفتوں سے اگنی کو منسوب کیا گیا ہے وہ بھی آگ کی ہی صفتیں ہیں نہ پر میشر کی ۔ اور یہ خیال اکثر ہندوؤں کا قدیم سے چلا آیا ہے اور اب بھی ہے اور اسی بناء پر جوالامکھی کی آگ کروڑوں ہندوؤں کی نظر میں ایک بڑی بھاری دیوی ہے چنانچہ ہم نے بہت سے ہندوؤں کو کہتے سنا کہ اس کل جنگ کے زمانہ میں کسی چیز میں ست باقی نہیں رہا۔ مگر ایک جوالا مکھی میں ۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ بہت سے ہند و آگ کو بھی پر میشر سمجھتے ہیں اور ہندوؤں میں آتش پرستوں کے فرقے جنہیں سا گنگ کہتے ہیں اسی بنا پر جاری ہوئے ہیں ۔ پنڈت دیا نند بھی اپنے وید بھاش میں جس کو انہوں نے ۱۸۷۷ء میں بنارس کی نیر اس کمپنی کے چھاپہ خانہ میں چھپوا کر مشتہر کیا تھا کئی مقام میں قبول کرتے ہیں کہ اگنی سے مراد آگ ہی ہے مگر اس کے دوسرے معنے پر میشر بھی بتاتے ہیں اس لئے پر میشر کے دو دو معنے انہیں کرنے پڑے اور بہت فکریں ماریں مگر اس بات میں کامیاب نہ ہو سکے ان کے لئے بہتر ہوتا کہ وہ سیدھے سیدھے الفاظ کو ناحق کی تکلیف سے بیا کرن کے ایک بے ضابطہ شکنجہ پر نہ چڑھاتے اور نہ اپنی طرف سے ایک بے سند لغات تراشی کرتے بلکہ ہمہ اوست ہونے کا دعوی کر کے وید انتیوں کی طرح آگ اور ہوا اور پانی اور خاک وغیرہ کو خدا کہہ دیتے اس صورت میں شاید ویدوں کی کچھ پردہ پوشی ہو سکتی ۔ بہر حال ہم آریوں کے لائق ممبروں سے خواستگار ہیں کہ وہ ان منتروں کی اپنے طور پر تاویل کر کے ہمارے بیان کے مقابل شائع