شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 548

شحنۂِ حق — Page 382

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۶۸ شحنه حق ایک ہی ہے جو ان کو کھینچ کر لاتا ہے اور نیز یا درکھنا چاہیے کہ ہم بدظن لوگوں سے ہرگز نہیں ڈرتے اور اگر بدظن لوگ اتنے ہو جائیں کہ دنیا میں سما نہ سکیں تو وہ درحقیقت اپنا نقصان کریں گے نہ ہمارا اور سچ تو یہ ہے کہ ہماری نظر میں تمام دنیا بجز اس ایک کے یا اس کے خالص محبوں کے جتنے اور لوگ ہیں خواہ وہ بادشاہ ہیں یا امیر ہیں یا وزیر ہیں یا ۳۰ راجے ہیں یا نواب ہیں ایک مرے ہوئے کیڑے کی مانند بھی نہیں ہاں ہم اپنے محسنوں کے شکر گزار ہیں ایسا ہی گورنمنٹ برطانیہ کے بھی کیونکہ بڑا بدذات وہ شخص ہے جواپنے محسن کا شکر گزار نہ ہو ۔ سواے آر یوتم غلطی پر ہو یقیناً سمجھو کہ تم غلطی پر ہو ۔ ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے اور تم کچھ بھی ہما را بگاڑ نہیں سکتے ۔ اگر تم نے ہمیں فریبی کہا تو اس سے ہم کچھ غصہ بھی نہیں کرتے کیونکہ رگ وید میں تمہارے پر میشر کا نام بھی فریبی ہے اور وہ شرقی یہ ہے اے اندر تو نے سوشنا کو فریب سے قتل کیا دیکھورگ وید اشتک اول انو کا ۳ سکت ۴ شرقی نمبر ۷ ۔ سو جب کہ اندر پر میشر اپنے فریب سے قتل کا مرتکب ہوا تو کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور بھی فریب ہوگا ۔ دیا نندی فریبوں سے بھی آپ نا واقف نہیں ہوں گے۔ اوّل تو وہ پاک زبان ایسے تھے کہ ادنی رنج سے اپنے معزز مخالفوں کو کتا اور بلا اور سؤر کہہ دیا کرتے تھے ۔ تھرمو چھیدن جو انہوں نے ایک رسالہ راجہ شیو پر شا دستارہ ہند کے جواب میں بنایا ہے گویا وہ ان کی اخلاقی حالت کا آئینہ ہے جس میں راجہ صاحب کو کسی جگہ تو پاگل کہا ہے اور کسی جگہ گنوار اور کسی جگہ مورکھ اور کسی جگہ کتے سے تشبیہ دی ہے۔ اور سنیاسی بن کر یه حاشیہ صفحہ ۴۳۵ سے شروع ہوتا ہے۔(ناشر)