شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 548

شحنۂِ حق — Page 383

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۶۹ شحنه حق بات بات پر جھاگ اگلی ہے ۔ دیکھو بھارت متر مطبوعہ ۲۶ - اگست ۱۸۸۰ء ہم نے جو اپنے کسی صفحہ گذشتہ میں اس پنڈت کی نسبت گندہ کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ اسی گندہ زبانی کی وجہ سے ہے جس کا جابجا شہرہ ہو گیا ۔ یہاں تک کہ پنڈت شیو نارائن صاحب کو بھی اپنے رساله برادر ہند ستمبر و اکتوبر ۱۸۸۰ء میں یہ مشہور واقعہ لکھنا پڑا۔ ماسوا اس کے اگر ان کے فریب کا کچھ نمونہ دیکھنا ہو تو پر چہ دھرم جیون ۱۳ مارچ ۱۸۸۷ء کا دیکھنا ہی کافی ہے کہ پہلے انہوں ۔ نے منشی اندرمن کے مقدمہ کے لئے ہندوؤں میں ایک جوش دیکھ کر اور چندہ دینے پر مستعد پا کرتا ڑ لیا کہ تنور تو بہت گرم ہے بہتر ہو کہ اس میں ہماری بھی کوئی روٹی پک جائے تب جھٹ پٹ پنڈت جی نے اندرمن کو بذریعہ تا رخبر دی کہ میں تمہارا ہمدرد ہوں تمہیں آنا چاہیے ۔ خیر وہ ان کے پاس افتاں و خیزاں میرٹھ میں آیا ۔ پنڈت صاحب نے باتیں بنا کر اجازت لے لی کہ (۳۲) ۔ چندہ ہم جمع کراتے ہیں پھر تو روپیہ پر روپیہ آتے دیکھ کر سنیاسی صاحب کی ایسی نیت بدل گئی کہ سارا روپیہ نگل جانا چاہا مگر منشی اندرمن نے * بھی تو ایک پرانا خورندہ تھا جس نے ایسے کئی سنیا سی کھا پی چھوڑے تھے ۔ اس نے پنڈت جی کے طور بے طرح دیکھ کر مراد آباد سے چٹھی لکھی کہ تم نے میرے نام سے ہزاروں رو پید ا کٹھا کر لیا ہے اور مجھ کو ایک کوڑی تک دینا نہیں چاہتے اور خود ہضم کرنا چاہتے ہیں پس میں آپ کے اس جھوٹے سنیاس کی قلعی کھولنے کو تیار ہوں ۔ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” نے “ زائد ہے۔(ناشر)