شحنۂِ حق — Page 359
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۴۵ شحنه حق خلاف واقعہ بیان کرتا ہے سو ہمیں بڑی حیرت ہے کہ اس قدر دھڑ کا اس کے دل کو کیوں پیدا ہو گیا اور اس حرکت بے جا کا باعث کیا ہے۔ ہمارے اس ملک میں جو ایک قوم ہندو جٹ ہیں جن میں سے بعض سر پر کیس بھی رکھا کرتے ہیں میں نے معتبر ذریعہ سے سنا ہے کہ اکثر ان کی یہ عادت ہے کہ جب وہ اپنی دختر کا ناطہ کسی جگہ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے چپکے چپکے اس گاؤں میں چلے جاتے ہیں جس جگہ اپنی دختر کی نسبت کرنا ان کا ارادہ ہوتا ہے تب اس گاؤں میں پہنچ کر نہایت تحقیق و تفتیش کی غرض سے پٹواری کی کھیوٹ اور گرداوری اور روزنامہ سے اور نیز دوسرے طریقوں سے بھی دریافت کر لیتے ہیں کہ اس شخص کی زمین کتنی ہے اور سال تمام کی آمدنی کس قدر ہے اور شریکوں میں اس کا کیا حصہ ہے تب اس تمام جانچ اور پرتال کے بعد اپنی دختر یعنی لڑکی اس کو دے دیتے ہیں لیکن اس جگہ تو ان امور میں سے کوئی بات بھی نہیں تھی ۔ ہاں اگر کوئی ہمارے الہامی اشتہارات کے مقابل پر آتا تو اس کا حق تھا کہ پہلے اپنی تسلی کر لیتا بلکہ بینک میں روپیہ جمع کرانے کے لئے ہمیں مجبور کرتا پھر اگر ہم روپیہ جمع نہ کرا سکتے تو جو چاہتا ہم پر الزام لگا تا لیکن ہمارے مقابلہ کے لئے تو کسی نے اس طرف رخ بھی نہ کیا اور ایسے بھاگے کہ جیسے سکھ انگریزوں سے شکست (۱۳) کھا کر دریا میں ڈوب ڈوب کر مرے تھے ۔ تو کیا اب بیہودہ باتیں بنانا حیا اور شرم کا للعمار کام ہے کیا ہم نے منشی اندر من مراد آبادی کے لئے چوہیں سو روپیہ نہیں بھیجا تھا۔ جس سے لالہ صاحب روپوش ہو کر اب تک نظر نہ آئے کہ کہاں ہیں ۔ قوله - جان محمد امام مسجد قادیان کو مرزا نے کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ تم اپنے لڑکے