شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 548

شحنۂِ حق — Page 360

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۴۶ شحنه حق کی قبر کھود دو یعنے اب وہ مرے گا حالانکہ وہ نہیں مرا۔ اقول ۔ اس افترا کا جواب یہی کافی ہے لعنت اللہ علی الکاذبین ۔ اور اگر اور بھی کچھ ثبوت چاہو تو یہاں جان محمد صاحب کی دستخطی تحریر حاشیہ میں موجود ہے اس کو ذرا آنکھ کھول کر پڑھ لو اور دروغ بے فروغ کی ندامتوں کا کچھ مزہ اٹھاؤ اور اگر کچھ شرم حیا ہے تو قادیان میں ایک جلسہ کر کے اس ہندو کو ہمارے سامنے کر و جس نے یہ بے بنیا د قصہ لکھ کر بھیجا ہے کیونکہ اس قدرا فتر ا محض کا تصفیہ با لمواجہ خوب ہو جائے گا ۔ اور ہم اسی جلسہ عام میں اس ہندو کو کوئی ایسی قسم دیں گے جو اس پر مؤثر ہو سکے اور اس طرح پر جو جھوٹا ہو اس کی قلعی کھل جائے گی لیکن صرف بیہودہ تحریروں سے اس مفتری ہندو کا نام لینا کافی نہ ہوگا کیونکہ یہ تجربہ ہو چکا ہے کہ اس جگہ کے ہندوؤں پر جو تحریروں کے ذریعہ سے الزام لگایا جاتا ہے پیچھے سے وہ کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں کہ ہمیں اس کی خبر بھی نہیں چنا نچہ نظیر میں وہ اشتہار کافی ہے جس میں لکھا تھا کہ گویا لالہ شرم پت کہتا ہے کہ میں مرزا کے دعوئی الہامات کو سراسر مکر و فریب سمجھتا ہوں اور میں ان کے کسی الہام اور پیشگوئی حاشیه نوٹ یہ بہتان کہ گویا مرزا صاحب نے یہ کہا کہ در حقیقت تمہارے لڑکے کے لئے مجھے الہام ہوا کہ تم اس کی قبر کھو دوسرا سرا افترا ہے جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں اور میں جانتا ہوں کہ یہ ان نا اہل لوگوں کی گھڑت ہے کہ جو نہ خدا کی لعنت اور نہ خلقت کی لعنت سے ڈرتے ہیں ۔ کیا خوب ہو کہ ایک جلسہ ہو کر ایسا شخص میرے روبرو کیا جائے تا میں بھی اس کو بٹھا کر پوچھو لوں کہ اے بھلے مانس کب تیرے روبرو مرزا صاحب نے ایسا الہام مجھ کو سنایا تھا۔ العبد خاکسار جان محمد امام مسجد قادیان