شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 358 of 548

شحنۂِ حق — Page 358

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۴۴ شحنه حق اور کسی تدبیر سے ہماری دسترس ممکن ہی نہیں ۔ کیا تمہیں دیا نند کی کتابوں اور ان کے زبانی لکچروں اور ان کے تحریری مباحثہ پر بھی اعتبار نہیں ۔ کیا وہ لوگ بالکل جھوٹے ہی ہیں جنہوں نے صدہا روپیہ سرکار انگریزی سے ویدوں کا اردو انگریزی ترجمہ کرنے میں پایا ہے۔ پھر جب واقفیت حاصل کرنے کے لئے اس قدر سامان اور کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں اور وید اور دیدوں کے بھاش (۱۳) اور دیا نندی ستیارتھ پرکاش وغیرہ کتابیں ہماری الماریوں میں رکھی پڑی ہیں ۔ اور زبانی مناظرات میں بھی ہماری عمر گذر گئی ہے تو کیا اب تک ہم آپ لوگوں کے گھر سے نا واقف ہیں ۔ پھر جب اس قدر ہمارے وسیع معلومات ہیں تو ایک سنسکرت اگر نہیں تو نہیں سہی اور خود با وجود اس درجہ کے وسعت معلومات کے جو سالہا سال کا ذخیرہ ہے اس کاگ بھاشا کی ضرورت ہی کیا ہے۔ قولہ۔ مرزا کوڑی کوڑی سے لا چاراور قرضدار ہے ۔ اقول ۔ اس جگہ ہمیں حیرت ہے کہ لالہ صاحبوں کو ہمارے قرض کی کیوں فکر پڑ گئی ۔ اگر وہ سرمہ چشم آریہ کا ر دلکھ کر دکھلاتے اور پھر منشی جیون داس صاحب اس رد کی صحت و کمالیت پر قسم کھانے کو تیار ہو جاتے ۔ تب اگر ہم اس جلسہ قسم میں حسب وعدہ خود پانسو روپیہ نقد پیش کرنے سے عاجز رہ جاتے تو ایسے اعتراضوں کا محل بھی ہوتا ۔ مگر اب تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری حیثیت خانگی کے بارے میں اس را قم در دمنش کو جس نے ہمارے مقابل پر کبھی اپنا نام بھی ظاہر نہیں کیا کیوں اتنے تفکرات پیدا ہو گئے یہاں تک کہ بندوبست کے کھیوٹ میں ہماری زمین تلاش کرتا پھرتا ہے اور اپنی بدقسمتی سے اس تلاش میں بھی غلطی پر غلطی کھاتا ہے اور سراسر