شحنۂِ حق — Page 347
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۳۳ شحنه حق کیا اس فتنہ کے فرو کرنے کی غرض سے آریوں کے لائق ممبروں پر واجب نہیں ہے کہ وہ بھی ﴿۵﴾ ایک تحت اللفظ ترجمہ اسی رگوید کا اردو زبان میں شائع کر دیں تا فیصلہ کرنے والے خود فیصلہ کر لیں کہ اس پہلے ترجمہ میں کون سی خیانتیں اور تعریفیں ہوئی ہیں لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ آریہ لوگ ہرگز ایسا ترجمہ تحت اللفظ اردو میں شائع نہیں کریں گے کیونکہ در حقیقت یہی لوگ پکے خائن اور چور ہیں اور اپنے دلوں میں خوب سمجھتے ہیں کہ جس دن ہم نے اپنے ہاتھ سے عام طور پر اردو میں ویدوں کے تحت اللفظ ترجمے شائع کر دیئے اس دن ہمارے ویدوں کی خیر نہیں اور ایسے اڑ جائیں گے جیسے آگ لگ جانے سے سارا با ردت خانہ اڑ جاتا ہے اسی وجہ سے ان کو یہ بھی حوصلہ نہ پڑا کہ ستیارتھ پرکاش کا ہی اردو میں ترجمہ کر دیں چنانچہ ۲ مارچ ۱۸۸۷ء کے دھرم جیون میں لکھا ہے کہ بعض سادہ لوح آریوں بھی فریب جن کے نطفہ سے وجود لیا تھا عقل کے بھی ایسے موٹے کہ ایک بات پر کبھی قائم نہ رہے کبھی چار پستکوں کا نام وید رکھا اور کبھی اسی زبان سے بائیس یا چوبیس وید بنا ڈالے کبھی ان کے پرمیشر کو دنیا کی ہی خبر نہیں کہ کتنی ہے اور کبھی ایساز و در نج کے مکتی دے کر اور بڑے بڑے مقدس رشی بنا کر پھر ان کی تمام عزت خاک میں ملاتا ہے اور کیڑے مکوڑے بناتا ہے۔ غرض دھرم جیون اور پر چہ برادر ہند میں ایسے ایسے بہت سے حملے مگر سچے دیانند پر کئے گئے تھے جس کی پاداش میں آج پنڈت شونا رائن بھی سزائے موت کے مستحق ٹھہرے غضب کی بات ہے کہ کوئی آر یہ یہ خیال نہیں کرتا کہ جن قصوروں کا دیانند آپ ہی معترف ہے یا جو نالائق باتیں جیسے عمل نیوگ خود آپ ہی اس نے ستیارتھ پرکاش میں لکھ کر اور ویدوں کے حوالے دیگر آریوں کی پاک دامن عورتوں کو دوسروں کے ساتھ خراب کرنا چاہا ہے ان باتوں میں پنڈت شونا رائن کا کیا قصور ہے یہ تو وید کا قصور ہے جس میں ایسی ایسی پاک تعلیمیں بھی موجود ہیں اور یا دیانند کا قصور جس نے نادانی سے ایسے نازک مسائل ستیارتھ پرکاش میں درج کر دیئے اور ویدوں کے مقدس ہونے کا نقارہ بجا کر نمونہ دکھلا دیا۔ منہ۔