شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 548

شحنۂِ حق — Page 348

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۳۴ شحنه حق نے ترجمہ کے لئے اصرار بھی کیا مگر لائق ممبروں کی طرف سے جواب ملا کہ مصلحت نہیں ہاں پنڈت شو نارائن صاحب اگنی ہوتری نے عہد کیا ہے کہ اس متبرک کتاب کا ہم ترجمہ کریں گے۔ افسوس کہ آریوں میں ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے ہیں جو اپنی گانٹھ کی عقل رکھتے ہوں لاکھوں آدمیوں کی شہادت کو چھوڑ کر ایک دیانند پر مرے جاتے ہیں۔ اب ہم اس قصہ کو مختصر کر کے ایک نئی کتاب کے ماہ بماہ نکلنے کی بشارت دیں گے اور اسی کے ضمن میں آریوں کے اس رسالہ کا ردلکھا جائے گا جس کا نام انہوں نے سرمه چشم آریہ کی حقیقت رکھا ہے۔ ہر چند ایسے لغویات کے لئے اپنے بیش قیمت اور عزیز وقت کو کھونا شاید بعضوں کی نظر میں لا حاصل معلوم ہوگا مگر ہم نے صرف چاریا پانچ گھنٹے اپنے پیارے وقت کے اس مختصر رسالہ کے لکھنے میں صرف کئے ہیں اور وہ بھی اس لئے کہ تابے خبر ہند و زادے اور سادہ لوح منغ بچے ہماری خاموشی کو اس بات پر حمل نہ کرلیں کہ ان کا پر عفونت رسالہ کچھ حیثیت رکھتا ہے اور چونکہ ہمارے اس رسالہ میں ان کی بے جا نکتہ چینیوں پر تنبیہ کا تازیانہ جڑنا اور الزام، ملامت کا ہنٹر تاڑ تاڑ مارنا قرین مصلحت سمجھا گیا ہے اس لئے اس رسالہ کا نام بھی شحنہ حق رکھا گیا کیونکہ یہ رسالہ آریوں کے آوارہ طبع لوگوں کے سیدھا کرنے کے لئے شحنہ کا حکم رکھتا ہے اور ظریفانہ طور پر اس رسالہ کا ایک اور نام بھی رکھا گیا ہے اور وہ یہ ہے : ۔ آریوں کی کسی قدر خدمت اور ان کے ویدوں اور نکتہ چینیوں کی کچھ ماہیت فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا هُوَمَوْلَانَا وَ نَاصِرُنَا فِي كُلِّ مَوْطِن وَلَا مَوْلَى لِلْكَافِرِينَ۔