شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 502

شہادة القرآن — Page 326

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۲۴ شهادة القرآن خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی نہیں آسکتا اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثَلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ چونکہ تُلہ کا لفظ دونوں فقروں میں برابر آیا ہے اس لئے قطعی طور پر یہاں سے ثابت ہوا کہ اس امت کے محدث اپنی تعداد میں اور اپنے طولانی سلسلہ میں موسوی اُمت کے مرسلوں کے برابر ہیں اور درحقیقت اسی کی طرف اس دوسری آیت میں بھی اشارہ ہے اور وہ یہ ہے۔ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ امَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بي شَيْئًا یعنی خدا نے اُن لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے یہ وعدہ کیا ہے کہ البتہ انہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ کرے گا جیسا کہ اُن لوگوں کو کیا جو اُن سے پہلے گذر گئے اور اُن کے دین کو جو اُن کے لئے پسند کیا ہے ثابت کر دے گا اور اُن کے لئے خوف کے بعد امن کو بدل دے گا میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔ الجز و نمبر ۱۸ سورۃ نور ۔ اب غور سے دیکھو کہ اس آیت میں بھی مماثلت کی طرف صریح اشارہ ہے اور اگر اس مماثلت سے مماثلت تامہ مراد نہیں تو کلام عبث ہوا جاتا ہے کیونکہ شریعت موسوی میں چودہ سو برس تک خلافت کا سلسلہ ممتد رہا (۲۹) نہ صرف تیس برس تک اور صد با خلیفے روحانی اور ظاہری طور پر ہوئے نہ صرف چار اور پھر ہمیشہ کے لئے خاتمہ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ منکم کا لفظ دلالت کرتا ہے کہ وہ خلیفے صرف صحابہ میں سے ہوں کیونکہ منکم کے لفظ میں مخاطب صرف صحابہ ہیں تو یہ خیال ایک بدیہی غلطی ہے اور ایسی بات صرف اُس شخص کے منہ سے نکلے گی جس نے کبھی قرآن کریم کو غور سے نہیں پڑھا اور نہ اُس کی اسالیب کلام کو پہچانا کیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ مخاطبت کے وقت وہی لوگ مراد ہوتے ہیں جو موجودہ زمانہ میں بحیثیت ایمانداری زندہ موجود ہوں تو ایسا تجویز کرنے سے سارا قرآن الواقعة : ۴۰، ۴۱ النور : ۵۶