شہادة القرآن — Page 325
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۲۳ شهادة القرآن یہ ہے کہ موسوی شریعت اگر چہ جلالی تھی اور لاکھوں خون اس شریعت کے حکموں سے ہوئے یہاں تک کہ چار لاکھ کے قریب بچہ شیر خوار بھی مارا گیا لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس سلسلہ کا خاتمہ رحمت پر کرے اور انہیں میں سے ایسی قوم پیدا کرے کہ وہ تلوار سے نہیں بلکہ علم اور خلق سے اور محض اپنی قوت قدسیہ کے زور سے بنی آدم کو راہ راست پر لاویں۔ اب چونکہ مماثلت فی الانعامات ہونا از بس ضروری ہے اور مماثلت تامہ بھی متفق ہو سکتی تھی کہ جب مماثلت فی الانعامات متحقق ہو۔ پس اسی لئے یہ ظہور میں آیا کہ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قریبا چودہ سو برس تک ایسے خدام شریعت عطا کئے گئے کہ وہ رسول اور مہم من اللہ تھے اور اختتام اس سلسلہ کا ایک ایسے رسول پر ہوا جس نے تلوار سے نہیں بلکہ فقط رحمت اور خلق سے حق کی طرف دعوت کی۔ اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ خدام شریعت عطا کئے گئے جو بر طبق حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرآئیل ملہم اور محدث تھے اور جس طرح موسی کی شریعت کے آخری زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام سے بھیجے گئے جنہوں نے نہ تلوار سے بلکہ صرف خلق اور رحمت سے دعوت حق کی۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے اس شریعت کے لئے مسیح موعود کو بھیجا تا وہ بھی صرف خلق اور رحمت اور انوار آسمانی سے راہ راست کی دعوت کرے اور جس طرح حضرت مسیح حضرت موسی علیہ السلام سے قریبا چودہ سو برس بعد آئے تھے اس مسیح موعود نے بھی چودھویں صدی کے سر پر ظہور کیا اور محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے انطباق کلی پا گیا ۔ (۲) اور اگر یہ کہا جائے کہ موسوی سلسلہ میں تو حمایت دین کے لئے نبی آتے رہے اور حضرت مسیح بھی نبی تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرسل ہونے میں نبی اور محدث ایک ہی منصب رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کا نام مرسل رکھا ایسا ہی محدثین کا نام بھی مرسل رکھا۔ اسی اشارہ کی غرض سے قرآن شریف میں وَقَفَيْنَا مِنْ بَعْدِم بِالرُّسُلِ آیا ہے اور یہ نہیں آیا کہ قفينا من بعده بالانبیاء ۔ پس یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں چونکہ ہمارے سید و رسول صلی اللہ علیہ وسلم البقرة: ٨٨ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” سے “ زائد ہے۔(ناشر)