شہادة القرآن — Page 327
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۲۵ شهادة القرآن زیروز بر ہو جائے گا۔ مثلاً اسی آیت موصوفہ بالا کے مشابہ قرآن کریم میں ایک اور آیت بھی ہے جس میں اسی طرح بظاہر الفاظ وہ لوگ مخاطب ہیں جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے تھے اور اس وقت زندہ موجود تھے بلکہ ان آیات میں تو اس بات پر نہایت قوی قرائن موجود ہیں که در حقیقت وہی مخاطب کئے گئے ہیں اور وہ آیات یہ ہیں قَالَ سَنُقَتِلُ أَبْنَاءهُمْ وَنَسْتَحْيِ نِسَاءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قُهِرُونَ۔ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلهِ يُوْرِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ۔ قَالُوا ا وذِيْنَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَ مِنْ بَعْدِ مَا جِثْتَنَا قَالَ عَلَى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ الجزو نمبر 9 سورۃ الاعراف یعنی فرعون نے کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور اُن کی بیٹیوں کو زندہ رکھیں گے اور تحقیقا ہم ان پر غالب ہیں ۔ تب موسیٰ نے اپنی قوم کو کہا کہ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو زمین خدا کی ہے جس کو اپنے بندوں سے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور انجام بخیر پر ہیز گاروں کا ہی ہوتا ہے۔ تب موسیٰ کی قوم نے اس کو جواب دیا کہ ہم تیرے پہلے بھی ستائے جاتے تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ستائے گئے تو موسیٰ نے اُن کے جواب میں کہا که قریب ہے کہ خدا تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور زمین پر تمہیں خلیفے مقرر کر دے اور پھر دیکھے کہ تم کس طور کے کام کرتے ہو۔ اب ان آیات میں صریح اور صاف طور پر وہی لوگ مخاطب ہیں جو حضرت موسیٰ کی قوم میں سے اُن کے سامنے زندہ موجود تھے اور انہوں نے فرعون کے ظلموں کا شکوہ بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم ۳۰ تیرے پہلے بھی ستائے گئے اور تیرے آنے کے بعد بھی اور انہیں کو خطاب کر کے کہا تھا کہ تم ان تکلیفات پر صبر کرو خدا تمہاری طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو گا اور تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تم کو زمین پر خلیفے بنادے گا لیکن تاریخ دانوں پر ظاہر ہے اور یہودیوں اور نصاری کی کتابوں کو دیکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ گو اس قوم کا دشمن یعنی فرعون اُن کے سامنے ہلاک ہوا مگر وہ خود تو زمین پر نہ ظاہری خلافت پر پہنچے نہ باطنی خلافت پر بلکہ اکثر ان کی نافرمانیوں سے ہلاک الاعراف: ۱۲۸ تا ۱۳۰