سَت بچن — Page 290
روحانی خزائن جلد ۔ ۱۰ ۲۹۰ ست بچن شارع عام میں بیٹھ کر راہ چلتے لوگوں کو پھسلاتے اور فریب دیتے ہیں اور ایک ایک پیسہ لیکر بیچارے حمقاء کو بڑے تسلی بخش الفاظ میں خوشخبری دیتے ہیں کہ عنقریب اُن کی ایسی ایسی نیک قسمت کھلنے والی ہے اور ایک سچے محقق کی صورت بنا کر ان کے ہاتھ کے نقوش اور چہرہ کے خط وخال کو بہت توجہ سے دیکھتے بھالتے ہیں گویا وہ بعض نشانوں کا پتہ لگا رہے ہیں اور پھر ایک نمائشی کتاب کے ورقوں کو جو صرف اسی فریب دہی کیلئے آگے دھری ہوتی ہے اُلٹ پلٹ کر یقین دلاتے ہیں کہ در حقیقت پوچھنے والے کا ایک بڑا ہی ستارہ قسمت چپکنے والا ہے غالبا کسی ملک کا بادشاہ ہو جائے گا ورنہ وزارت تو کہیں نہیں گئی اور یا یہ لوگ جو کسی کو باوجود اُس کی دائمی نا پاکیوں کے خدا کا مورد فضل بنانا چاہتے ہیں اُن کیمیا گروں کی مانند ہیں جو ایک سادہ لوح مگر دولتمند کو دیکھ کر طرح طرح کی لاف زنیوں سے شکار کرنا چاہتے ہیں اور ادھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے پہلے آنیوالے کیمیا گروں کی مذمت کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ جھوٹے بدذات ناحق اُچکوں کے طور پر لوگوں کا مال فریب سے کھسکا کر لے جاتے ہیں اور پھر آخر بات کو کشاں کشاں اس حد تک پہنچاتے ہیں کہ صاحبو میں نے اپنے پچاس یا ساٹھ برس کی عمر میں جس کو کیمیا گری کا مدعی دیکھا جھوٹا ہی پایا۔ ہاں میرے گورو بیکنٹھ باشی سچے رسائنی تھے کروڑ ہا روپیہ کا دان کر گئے مجھے خوش نصیبی سے باراں برس تک اُن کی خدمت کا شرف حاصل ہوا اور پھل پایا۔ پھل پانے کا نام سن کر ایک جاہل بول اُٹھتا ہے کہ بابا جی تب تو آپ نے ضرور رسائن کا نسخہ گورو جی سے سیکھ لیا ہوگا یہ بات سن کر بابا جی کچھ ناراض ہو کر تیوری چڑھا کر بولتے ہیں کہ میاں اس بات کا نام نہ لو ہزاروں لوگ جمع ہو جائیں گے ہم تو لوگوں سے چھپ کر بھاگتے پھرتے ہیں ۔ غرض ان چند فقروں سے ہی جاہل دام میں آ جاتے ہیں پھر تو شکار دام اُفتادہ کو ذبح کرنے کیلئے کوئی بھی دقت باقی نہیں رہتی خلوت میں راز کے طور پر سمجھاتے ہیں کہ در حقیقت تمہاری ہی خوش قسمتی ہمیں ہزاروں کوسوں سے کھینچ لائی ہے اور اس بات سے ہمیں خود بھی حیرانی ہے کہ کیونکر یہ سخت دل تمہارے لئے نرم ہو گیا اب جلدی کرو اور گھر سے یا مانگ کر دس ہزار کا طلائی زیور لے آؤ ایک ہی رات میں وہ چند ہو جائے گا مگر خبر دار کسی کو