سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 550

سَت بچن — Page 291

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۹۱ ست بچن میر کی اطلاع نہ دینا کسی اور بہانہ سے مانگ لینا قصہ کوتاہ یہ کہ آخر زیور لے کر اپنی راہ لیتے ہیں ۱۶۷ اور وہ دیوانے دو چند کی خواہش کرنے والے اپنی جان کو روتے رہ جاتے ہیں یہ اس طمع کی شامت ہوتی ہے جو قانون قدرت سے غفلت کر کے انتہا تک پہنچائی جاتی ہے مگر میں نے سنا ہے کہ ایسے ٹھگوں کو یہ ضرور ہی کہنا پڑتا ہے کہ جس قدر ہم سے پہلے آئے یا بعد میں آویں گے یقینا سمجھو کہ وہ سب فریبی اور بٹ مار اور ناپاک اور جھوٹے اور اس نسخہ سے بیخبر ہیں۔ ایسا ہی عیسائیوں کی پٹری بھی جم نہیں سکتی جب تک کہ حضرت آدم سے لے کر اخیر تک تمام مقدس نبیوں کو پاپی اور بدکار نہ بنا لیں۔ جدید (۲) دوسری صورت اس قابل رحم بیٹے کے مصلوب ہونے کی یہ ہے کہ اُس کے سولی ملنے کی یہ علت غائی قرار دی جائے کہ اُس کی سولی پر ایمان لانے والے ہر یک قسم کے گناہ اور بدکاریوں سے بچ جائیں گے اور اُن کے نفسانی جذبات ظہور میں نہ آنے پائیں گے مگر افسوس کہ جیسا کہ پہلی صورت خلاف تہذیب اور بدیہی البطلان ثابت ہوئی تھی ایسا ہی یہ صورت بھی گھلے گھلے طور پر باطل ہی ثابت ہوئی ہے کیونکہ اگر فرض کیا جائے کہ یسوع کا کفارہ ماننے میں ایک ایسی خاصیت ہے کہ اُس پر سچا ایمان لانے والا فرشتہ سیرت بن جاتا ہے اور پھر بعد ازاں اُس کے دل میں گناہ کا خیال ہی نہیں آتا تو تمام گذشتہ نبیوں کی نسبت کہنا پڑے گا کہ وہ یسوع کی سولی اور کفارہ پر سچا ایمان نہیں لائے تھے کیونکہ اُنہوں نے تو بقول عیسائیاں بدکاریوں میں حد ہی کر دی ۔ کسی نے اُن میں سے بت پرستی کی اور کسی نے ناحق کا خون کیا اور کسی نے اپنی بیٹیوں سے بدکاری کی اور بالخصوص یسوع کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے برے کام کئے ایک بیگناہ کو اپنی شہوت رانی کیلئے فریب سے قتل کرایا اور دلالہ عورتوں کو بھیج کر اُس کی جورو کو منگوایا اور اُس کو شراب پلائی اور اُس سے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا اور تمام عمر سنوا تک بیوی رکھی اور یہ حرکت بھی بقول عیسائیاں زنا میں داخل تھی اور عجیب تریہ کہ روح القدس بھی ہر روز اُس پر نازل ہوتا تھا اور زبور بڑی سرگرمی سے اتر رہی تھی مگر افسوس کہ نہ تو روح القدس نے اور ا نوٹ : عیسائیوں کی عقل اور مجھ پر افسوس ہے کہ انہوں نے اپنے یسوع کوخدا بنا کراس کی ذات کو کچھ فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ راستبازوں کے سامنے اس کو شرمندہ کیا بہتر تھا کہ اس کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے صدقہ دیتے اُس کے لئے دعائیں کرتے تا اس کی عاقبت کے لئے بھلائی ہوئی مشت خاک کو خدا بنانے میں کیا حاصل تھا۔ منہ