سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 550

سَت بچن — Page 222

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۲۲ ست بچن میں سے کسی کی پرستش جائز نہیں ایسا ہی وید میں بھی یہ بیان موجود ہے مگر یہ بات ہرگز نہیں تعصب سے ضد کرنا اور بات ہے لیکن ثبوت دینا اور بات ہے سو باوا صاحب نے یہ تمام مضمون قرآن شریف سے لئے ہیں اور پھر باوا صاحب کا ایک شعر یہ ہے۔ او چو تھان سوہاوناں او پر حل مرار سچ کرنی دے پائیے درگھر محل پیار یعنی وہ بہشت اونچا مکان ہے اُس کی عمارتیں خوبصورت ہیں اور راست بازی سے وہ مکان ملتا ہے اور پیار اُس محل کا دروازہ ہے جس سے لوگ گھر کے اندر داخل ہوتے ہیں اور یہ شعر اس آیت سے اقتباس کیا گیا ہے جو قرآن شریف میں ہے۔ أُولَئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا یعنی جولوگ راستباز ہیں اور خدا سے ڈرتے ہیں انہیں بہشت کے بالا خانوں میں جگہ دی جائے گی جو نہایت خوبصورت مکان اور آرام کی جگہ ہے دیکھو اس جگہ صریح باوا صاحب نے اس آیت کا ترجمہ کر دیا ہے کیا اب بھی کچھ شک باقی ہے کہ باوا صاحب قرآن شریف کے ہی تابعدار تھے اس قسم کا بیان بہشت کے بارہ میں وید میں کہاں ہے بلکہ انجیل میں بھی نہیں تبھی تو بعض نا بینا عیسائی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں جسمانی بہشت کا ذکر ہے مگر نہیں جانتے کہ قرآن بار بار کہتا ہے کہ جسم اور روح جو دونوں خدا تعالیٰ کی راہ میں دنیا میں کام کرتے رہے ان دونوں کو جزا ملے گی یہی تو پورا بدلا ہے کہ روح کو روح کی خواہش کے مطابق اور جسم کو جسم کی خواہش کے مطابق بدلا ملے لیکن دنیوی کدورتوں اور کثافتوں سے وہ جگہ بالکل پاک ہوگی اور لوگ اپنی پاکیزگی میں فرشتوں کے مشابہ ہوں گے اور با ایں ہمہ جسم اور روح دونوں کے لحاظ سے لذت اور سرور میں ہوں گے اور روح کی چمک جسم پر پڑے گی اور جسم کی لذت میں روح شریک ہوگا اور یہ بات دنیا میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ دنیا میں جسمانی لذت روحانی لذت سے روکتی ہے اور روحانی لذت جسمانی لذت سے مانع آتی ہے مگر بہشت میں ایسا نہیں ہوگا بلکہ اُس روز دونوں لذتوں کا ایک دوسری پر عکس پڑے گا اور اسی حالت کا نام سعادت عظمی ہے۔ غرض بادا صاحب نے یہ نکتہ معرفت ل الفرقان : ۷۶ ۲ الفرقان : ۷۷