سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 550

سَت بچن — Page 223

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۲۳ ست بچن قرآن شریف سے لیا ہے کیونکہ دوسری تمام قو میں اس سے غافل ہیں اور ان کے عقیدے اس (۹۹) کے برخلاف ہیں ۔ پھر باوا صاحب کا ایک شعر یہ ہے۔ کیتا آکھن آکھئے آکھن ٹوٹ نہ ہو منگن والے کیڑے داتا ایکوسو جس کے جیا پر ان ہیں من و تے سکھ ہو یعنی کس قدر کہیں کہنے کی انتہا نہیں۔ کس قدر مانگنے والے ہیں اور دینے والا ایک ہے جس نے روحوں اور جسموں کو پیدا کیا وہ دل میں آباد ہو جائے تو آرام ملے یہ شعر ان قرآنی آیتوں کا اقتباس ہے وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يَسْأَلُهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَنَفْسٍ وَمَا سَوَاهَا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَاهَا یعنی زمین پر کوئی بھی ایسا چلنے والا نہیں جس کے رزق کا خدا آپ متکفل نہ ہو وہی ایک سب کا رب ہے اور اُس سے مانگنے والے تمام زمین و آسمان کے باشندے ہیں ۔ جان کی قسم ہے اور اُس ذات کی جس نے جان کو اپنی عبادت کے لئے ٹھیک ٹھیک بنایا کہ وہ شخص نجات پا گیا جس نے اپنی جان کو غیر کے خیال سے پاک کیا۔ اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ جس نے اُس محبوب کو اپنے اندر آباد کیا جیسا کہ باوا صاحب نے کہا حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تو اندر میں خود آباد ہے صرف انسان کی طرف سے بوجہ التفات الى الغیر دوری ہے پس جس وقت غیر کی طرف سے التفات کو ہٹالیا تو خود اپنے اندر نور الہی کو مشاہدہ کرلے گا خدا دور نہیں ہے کہ کوئی اُس طرف جاوے یا وہ اس طرف آوے بلکہ انسان اپنے حجاب سے آپ ہی اُس سے دور ہے پس خدا فرماتا ہے کہ جس نے آئینہ دل کو صاف کر لیا وہ دیکھ لے گا کہ خدا اُس کے پاس ہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ یعنی ہم انسان سے اُس کی رگ جان سے بھی قریب تر ہیں۔ یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسا کہ حبل الورید کے خون کے نکلنے سے انسان کی موت ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ ۔ پڑنے میں انسان کی موت ہے بلکہ اُس سے زیادہ تر ۔ ا هود: ۲ طه : ٩ ٣ الرحمن : ۳۰ ۲ الشمس : ۸ ۵ الشمس: ۱۰ 1 ق :۱۷ سے دور