سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 550

سَت بچن — Page 213

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱۳ ست بچن یعنی میں ہمیشہ حرص و ہوا کے پیچھے ہی پڑا رہا کبھی نیکی کا کام نہ کیا ایسا ہی میرا ہمیشہ حال رہا (۸۹) بدبخت ہوں بخیل ہوں غافل ہوں میں صاحب نظر نہیں ہوں اور بے خوف ہوں اور تیرے چاکروں کا خاک پا ہوں اور پھر ایک اور جگہ فرماتے ہیں ہم اوگن آرے توں سن پیارے مدھ بھاوے بیچ سو یعنی ہم گنہ گار ہیں اے پیارے وہی بیچ ہے جو تجھے اچھا معلوم ہو ۔ اب کیا آپ لوگ ان ابیات کو حقیقت پر حمل کر کے باوانا تک صاحب کو ایسا ہی خیال کرو گے جیسا کہ وہ ان شعروں میں اپنی نسبت خیال کرتے ہیں بلکہ یہی معنے کرو گے کہ اُنہوں نے خدا تعالیٰ کی عظمتوں پر نظر کر کے اپنے تیں بیج سمجھا پس ایسا ہی نوع انسان کیلئے اُن کا کلام ہے کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے فضل کے کوئی پاک نہیں کہلا سکتا۔ پھر عقل مند سوچ سکتا ہے کہ یہ شعر کہ لکھ محمد ایک خدا ۔ الکھ سچا ہے بے پروا اس کے یہی معنے ہیں کہ محمد اور خدا کی عظمت میں غور کر ۔ کیونکہ لکھنا غور کرنے اور فکر کرنے کو کہتے ہیں جیسا کہ الکھ کے معنے ہیں فکر اور عقل سے باہر ۔ پھر یہ قول نانک صاحب کا کئی محمد کھڑے دربار شمار نہ پاویں بے شمار اس کے یہی معنے ہیں کہ خدا کے مقرب اور پیارے بے شمار ہیں جن کو اُس کے دربار خاص میں جگہ ہے ۔ اب آنکھیں کھول کر دیکھو کہ کیا اس شعر سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف نکلتی ہے یا مذمت نکلتی ہے بلکہ نانک صاحب نے خدا تعالیٰ کے ہر یک پیارے کا نام محمد رکھ دیا کیونکہ محمد کے معنے عربی میں یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی جو شخص خدا تعالی کا نہایت ہی پیارا ہو اُس کو محمد کہتے ہیں۔ پس نانک صاحب فرماتے ہیں کہ محمد یعنی خدا تعالیٰ کا پیارا ایک نہیں ہے بلکہ بے شمار پیارے ہیں جن کو اُس کے دربار میں رسائی ہے سو ان شعروں میں تو نانک صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا صاف اقرار کر دیا ہے ۔ اور اگر فرض کے طور پر کوئی ایسا شعر ہو جو مذمت پر دلالت کرتا ہو تو وہ گندہ شعر نانک صاحب کا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ جابجا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہیں جیسا کہ