سَت بچن — Page 212
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱۲ ست بچن ۸۸ ہمیں بہشت میں داخل ہونے کیلئے آپ ہی سب توفیق بخشی آپ ہی ایمان بخشا آپ ہی نیک عمل کرائے آپ ہی ہمارے دلوں کو پاک کیا اگر وہ خود مدد نہ کرتا تو ہم آپ تو کچھ بھی چیز نہ تھے اور پھر فرماتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے یعنی یہ دعا کرو کہ ہم تیری پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے اُن تمام باتوں میں مدد چاہتے ہیں سو یہ تمام اشارے نیستی اور تذلیل کی طرف ہیں تا انسان اپنے تئیں کچھ چیز نہ سمجھے۔ اس وقت با وانا تک صاحب کے ایک دو شعر اور مجھے یاد آگئے جن میں اُنہوں نے کسر نفسی کے ساتھ جناب الہی میں مناجات کی ہے جیسا کہ وہ گرنتھ صاحب میں فرماتے ہیں اسی بول وگاڑ وگاڑیں بول توں ندرمیں اندر تو لیں تول یعنی ہم بکو اسی لوگ ہیں بات بگاڑ لیتے ہیں تو اپنی نظر کے اندروزن کر لیتا ہے پھر ایک جگہ با واصاحب فرماتے ہیں توں بھر پور جانیا میں دور جو کچھ کرے سو تیرے حضور یعنی تون ہر جگہ ہے مگر میں نے دور خیال کیا جو کچھ کریں سو تیرے حضور میں کرتے ہیں پھر ایک جگہ کہتے ہیں توں دیکھیں ہو مگر پاؤ تیرے کم نہ تیرے نائے یعنی تو دیکھ رہا ہے اور ہم اپنے بُرے کاموں سے منکر ہوتے ہیں نہ تیرے حکم پر چلتے ہیں اور نہ تیرا نام لیتے ہیں ۔ اب کیا یہ خیال کیا جائے کہ نانک صاحب در حقیقت ایسے کلمے منہ پر لایا کرتے تھے جن سے بات بگڑ جاتی تھی اور نیز خدا تعالیٰ کو دور خیال کرتے تھے اور اپنے مبرے کاموں کو چھپایا کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کے حکم پر نہیں چلتے تھے اور نہ اُس کا نام لیتے تھے ایسا ہی باوا نانک صاحب گرنتھ کے صفحہ ۲۱۹ میں فرماتے ہیں واہ واہ ساچے میں تیری ٹھیک ہو پاپی توں نرمل ایک یعنی اے بچے مجھے تیرا آسرا ہے میں سخت بدکار ہوں اور تو بے عیب ہے۔ اور پھر فرماتے ہیں شب روز گشتم در هوا کردیم بدی خیال گا ہے نہ نیکی کار کردم اینچنیں احوال بد بخت ہمچو بخیل غافل بے نظر بے باک نانک بگوید جن ترا تیرے چاکراں پاخاک ل الفاتحة : ۵