سَت بچن — Page 214
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱۴ ست بچن وہ ایک شعر میں گرنتھ میں فرماتے ہیں 'برکت تین کو انگلی پڑھدے رہن درود، یعنی جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں انہیں کو آنے والے زمانہ میں برکت ملے گی۔ اور پھر ایک شعر گرنتھ میں فرماتے ہیں کرنی کعبہ بیچ پیر کلمہ کرم نواج یعنی نیک کام کعبہ کے حکم میں ہیں جن کی طرف مونہہ کرنا چاہئے اور سچ بولنا مرشد کے حکم میں ہے جس سے رہ ملتی ہے اور کلمہ یعنی لا اله الا الله محمد رسول اللہ وہ چیز ہے جس سے قسمت کھلتی ہے اور عمل نیک ہو جاتے ہیں اب فرمائیے کہ کیا ایسا شخص جو اس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے کیا اس کی نسبت گمان کر سکتے ہیں کہ کوئی خلاف تہذیب کا کلمہ اس کے مونہہ سے نکلا ہوگا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گرنتھے صاحب کے اکثر ایسے اشعار جو تناقض کے مرض میں مبتلا ہیں تو اس کا یہ سبب نہیں کہ باوا صاحب کے کلام میں تناقض تھا بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام اشعار دوسو بلکہ تین سو برس بعد میں جمع کئے گئے اور ہر یک شعر کے پیچھے نانک کا اسم خواہ مخواہ لگا دیا گیا اگر چہ حال کے گرنتھ دان یہ بیان کرتے ہیں کہ جس شبد پر آسا محلہ پہلا یا گوڑی محلہ پہلا لکھا ہوا ہو وہ تو درحقیقت نانک صاحب کا ہی شعر ہے اور نہیں تو دوسرے جانشینوں کا شعر ہے لیکن جس حالت میں ہر یک شعر کے آخر میں نانک کا لفظ پایا جاتا ہے تو یہ ایک نہایت قابل اعتراض کا رروائی ہے کیونکہ سراسر خلاف واقعہ اور جعل کے رنگ میں ہے اور اس صورت میں اُن شعروں سے بھی امان اُٹھ گیا جو در اصل با وانا تک صاحب کے ہوں گے۔ اور اب کئی سو برس کے بعد کون فیصلہ کر سکتا ہے کہ اُن میں سے نانک صاحب کے کون سے شعر اور دوسروں کے کون سے شعر ہیں جن لوگوں نے بے محل اپنے شعروں کے اخیر پر نانک کا لفظ ملا دیا ان لوگوں نے اور کیا کچھ دخل نہیں دیا ہوگا۔ پھر جبکہ یہ کارروائی دو سو برس بعد بلکہ مدت کے بعد کی کارروائی ہے تو ایسے مجموعہ پر کیونکر بغیر دوسرے شواہد کے بھروسہ ہو سکتا ہے اگر چہ یہ بھی ممکن ہے کہ باوا صاحب کے اُس ابتدائی زمانہ کے بھی بعض شعر ہوں جبکہ اُنہوں نے ابھی اسلامی ہدایت سے شرف حاصل نہیں کیا تھا اور خیالات میں الہی روشنی حاصل نہیں ہوئی تھی اور ان خطاؤں اور غلطیوں میں پڑے ہوئے تھے جن کا اُن کو خود اقرار ہے لیکن چونکہ ان شعروں کے جمع کرنے میں پوری