سَت بچن — Page 162
۴۲ ست بچن روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۶۲ گرنتھوں میں بے شک کا اک احتمال کہ انساں کے ہاتھوں سے ہیں دست مال ہے جو پیچھے سے لکھتے لکھاتے رہے خدا جانے کیا کیا بناتے رہے گماں ہے کہ نقلوں میں ہو کچھ خطا کہ انساں نہ ہووے خطا سے جدا مگر یہ تو محفوظ ہے بالیقیں وہی ہے جو تھا اس میں کچھ شک نہیں اسے سر پہ رکھتے تھے اہل صفا تذلل سے جب پیش آتی بلا جو نانک کی مدح و ثنا کرتے تھے وہ ہر شخص کو یہ کہا کرتے تھے کہ دیکھا نہ ہو جس نے وہ پارسا وہ چولہ کو دیکھے کہ ہے رہنما جسے اُس کے مٹ کی نہ ہووے خبر وہ دیکھے اُسی چولہ کو اک نظر اُسے چوم کر کرتے رو رو دعا تو ہو جاتا تھا فضل قادر خدا اُس کا تو تھا معجزانہ اثر کہ نانک بچا جس سے وقت خطر بچا آگ سے اور بچا آب سے اسی کے اثر سے نہ اسباب سے ذرہ دیکھو انگد کی تحریر کو کہ لکھتا ہے اس ساری تقریر کو یہ چولا ہے قدرت کا جلوہ نما کلام خدا اُس پہ ہے جابجا جو شایق ہے نانک کے درشن کا آج وہ دیکھے اسے چھوڑ کر کام و کاج برس گذرے ہیں چار سو کے قریب یہ ہے نو بنو اک کرامت عجیب یہ نانک سے کیوں رہ گیا اک نشاں بھلا اس میں حکمت تھی کیا در نہاں یہی تھی کہ اسلام کا ہو گواہ بتادے وہ پچھلوں کو نانک کی راہ خدا سے یہ تھا فضل اُس مرد پر ہوا اُس کے دردوں کا اک چارہ گر یہ مخفی امانت ہے کرتار کی یہ تھی اک کلید اُس کے اسرار کی محبت میں صادق وہی ہوتے ہیں کہ اس چولہ کو دیکھ کر روتے ہیں سنو مجھ سے اے لوگو نانک کا حال سنو قصه قدرت ذوالجلال