سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 550

سَت بچن — Page 163

الد اله ده روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۶۳ وہ تھا آریہ قوم سے نیک ذات خردمند خوش خو مبارک صفات ابھی عمر سے تھوڑے گزرے تھے سال کہ دل میں پڑا اُس کے دیں کا خیال ای جستجو میں وہ رہتا مدام کہ کس راہ سے سچ کو پاوے تمام اُسے وید کی رہ نہ آئی پسند کہ دیکھا بہت اُس کی باتوں میں گند جو دیکھا کہ یہ ہیں سڑے اور گلے لگا ہونے دل اُس کا اوپر تلے کہا کیسے ہو یہ خدا کا کلام ضلالت کی تعلیم ناپاک کام ہوا پھر تو یہ دیکھ کر سخت غم مگر دل میں رکھتا وہ رنج و الم وہ رہتا تھا اس غم سے ہر دم اُداس زباں بند تھی دل میں سو سو ہراس یہی فکر کھاتا اُسے صبح و شام نہ تھا کوئی ہمراز نے ہمکلام کبھی باپ کی جبکہ پڑتی نظر وہ کہتا کہ اے میرے پیارے پسر میں حیراں ہوں تیرا یہ کیا حال ہے وہ غم کیا ہے جس سے تو یا مال ہے نہ وہ تیری صورت نہ وہ رنگ ہے کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال کہ کیوں غم میں رہتا ہے اے میرے لال وہ رو دیتا کہہ کر کہ سب خیر ہے مگر دل میں اک خواہش سیر ہے پھر آخر کو نکلا وہ دیوانہ وار نہ دیکھے بیاباں نہ دیکھا پہاڑ اُتار اپنے موہنڈوں سے دنیا کا بار طلب میں سفر کرلیا اختیار خدا کے لئے ہو گیا دردمند تنعم کی راہیں نہ آئیں پسند طلب میں چلا بیخود و بے حواس خدا کی عنایات کی کر کے آس جو پوچھا کسی نے چلے ہو کدھر غرض کیا ہے جس سے کیا یہ سفر کہا رو کے حق کا طلب گار ہوں شایر رو پاک کرتار ہوں سفر میں وہ رو رو کے کرتا دعا کہ اے میرے کرتار مشکل گشا ست بیچن