سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 550

سَت بچن — Page 158

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۵۸ ست بیچن سو ایسے پہچاننے والے کبھی خوارق کے ذریعہ سے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچے جاتے ہیں تا اُن کی کمزوریاں دور ہو جاویں اور ان کا دل یقین سے بھر جاوے پھر اس سے کیوں تعجب کرنا چاہئے کہ یہ چولا قدرت سے ہی لکھا گیا ہو چونکہ باوا صاحب طلب حق میں ایک پرند کی طرح ملک بملک پرواز کرتے پھرے اور اپنی عمر کو اس راہ میں وقف کر دیا اور خدا تعالیٰ سے چاہا کہ سچا مذ ہب اُن پر ظاہر ہو سو خدا تعالیٰ نے اُن کا صدق دیکھ کر اُن کو ضائع نہ کیا بلکہ وہ چولا اُن کو عطا کر دیا جس پر قدرت کے تمام نقوش ہیں ایسا کیا تا اُن کا اسلام پر یقین بڑھ جائے اور تا وہ سمجھیں کہ بجر لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کے اور کوئی سبیل نجات نہیں سو انہوں نے اس چولہ کو اسی غرض سے پہنا کہ تا اس چولے کو اپنی نجات کا ذریعہ قرار دیں اور تمام دنیا کو اپنے اسلام پر گواہ کر دیں۔ بعض نادان آریوں نے بغیر حوالہ کسی کتاب کے محض شرارت سے یہ بات بنائی ہے کہ وہ چولا با وا صاحب کو ایک فتح کے بعد ایک قاضی سے بطور نشان فتح ملا تھا لیکن ایسے متعصب لوگ یہ نہیں سوچتے کہ چولا صاحب پر تو اس مضمون کی آیتیں لکھی ہیں کہ فقط اسلام ہی سچا ہے اور اسلام ہی حق ہے اور محمد رسول اللہ خدا کے بچے نبی ہیں اور خدا و ہی سچا خدا ہے جس نے قرآن کو اتارا۔ پھر اگر باوا صاحب ان آیات کے منکر تھے تو انہوں نے چولے کی اس قدر کیوں عزت کی نعوذ باللہ اگر اُن کی نظر میں وہ کلام نا پاک تھا تو چاہئے تھا کہ پیروں کے نیچے روندا جاتا اور نہایت بے عزتی کی جاتی یا ایک عظیم الشان جلسہ میں اس کو جلا دیا جاتا ۔ مگر باوا صاحب نے تو ایسا نہ کیا بلکہ ہر ایک کو یہ کہتے پھرے کہ یہ خدا کے ہاتھ کا کلام لکھا ہوا ہے اور یہ کلام خدا کی قدرت ہی نے لکھا اور اُسی کی قدرت کے ہاتھ نے ہی مجھے کو پہنایا اور اس کلام کی دلوں میں اس قدر عزت جمائی کہ اُن کے تمام جانشین اس چولہ کی تعظیم کرتے رہے اور جب کوئی بلا پیش آتی اور کوئی سختی نمودار ہوتی یا کوئی عظیم الشان کام کرنا ہوتا تو اس چولہ کو سر پر باندھتے اور کلام الہی سے جو اُس پر لکھا ہوا ہے برکت چاہتے ۔ تب