سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 550

سَت بچن — Page 157

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۵۷ ست بچن نہ صرف ظاہری نظر سے کامل طور پر دیکھا بلکہ باطنی نظر سے بھی دیکھا اور وہ تمام پاک کلمات جو ۳۷ عربی میں لکھے تھے جن کو ہر یک سمجھ نہیں سکتا وہ ہم نے پڑھے اور اُن سے نہایت پاک نتائج نکالے سو یہ دیکھنا ہم سے پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوا اس وقت تک چولہ باقی رہنے کی یہی حکمت تھی کہ وہ ہمارے وجود کا منتظر تھا۔ بعض لوگ انگد کی جنم ساکھی کے اس بیان پر تعجب کریں گے کہ یہ چولہ آسمان سے نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے مگر خدا تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں پر نظر کر کے کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ اُس کی قدرتوں کی کسی نے حد بست نہیں کی کون انسان کہہ سکتا ہے کہ خدا کی قدرتیں صرف اتنی ہی ہیں اس سے آگے نہیں ایسے کمزور اور تاریک ایمان تو اُن لوگوں کے ہیں جو آج کل نیچری یا برہمو کے نام سے موسوم ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ باو اصاحب کو یہ قرآنی آیات الہامی طور پر معلوم ہوگئی ہوں اور اذن ربی سے لکھی گئی ہوں لہذا بموجب آیت مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَلی وہ سب فعل خدا تعالیٰ کا فعل سمجھا گیا ہو کیونکہ قرآن آسمان سے نازل ہوا ہے اور ہر یک ربانی الہام آسمان سے ہی نازل ہوتا ہے دین اسلام در حقیقت سچا ہے اور اُس کی تائید میں خدا تعالی بڑے بڑے عجائبات دکھلاتا ہے اگر چہ اُس غیب الغیب کا وجود اس آگ سے بھی زیادہ مخفی ہے جو پتھروں اور ہر ایک جسم میں پوشیدہ ہے مگر تاہم کبھی کبھی اُس وجود کی دنیا پر چمکار پڑتی رہتی ہے ہر یک چیز میں عصری آگ ہوتی ہے مگر دلوں میں خدا تعالیٰ نے اپنی ذات کی شناخت کی ایک آگ رکھی ہے جب کبھی بے انتہا دردمندی کی چقماق سے وہ آگ بھڑک اٹھتی ہے تو دل کی آنکھوں سے وہ غیر مرئی ذات نظر آ جاتی ہے اور نہ صرف یہی بلکہ جو لوگ اُس کو نیچے دل سے ڈھونڈھتے ہیں اور جو روحیں ایک نہایت درجہ کی پیاس کے ساتھ اُس کے آستانہ کی طرف دوڑتی ہیں اُن کو وہ پانی بقدر طلب ضرور پلایا جاتا ہے جس نے اپنے قیاسی اٹکلوں سے خدا تعالیٰ کو پہچانا اُس نے کیا پہچانا۔ در حقیقت پہچاننے والے وہی ہیں جن پر خدا تعالیٰ نے آپ ارادہ کر کے اپنا چہرہ ظاہر کر دیا ہے ل الانفال: ۱۸