سَت بچن — Page 138
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۸ ست بچن ترجمہ ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ بجز چند اشعار کے جو الحاق اور جعل سازی کے طور پر باوا صاحب کی طرف منسوب کئے گئے ہیں باقی کل اشعار جو باوا صاحب کے مونہہ سے نکلے ہیں وہ قرآن مجید کی متفرق آیتوں کے ترجمے ہیں ہم نے بہت فکر اور غور سے گرنتھ کو پڑھا ہے اور جہاں تک انسانی طاقت ہے خوب ہی سوچا ہے آخر نہایت صفائی سے یہ فیصلہ ہوا کہ باوا نانک صاحب نے قرآن بہت شوخ تو یہ غلطی ہوگی کہ رنگ کے لحاظ سے ان میں وہ مقابلہ ثابت کریں جو ضدوں میں بقیہ ہوتا ہے لیکن مراتب کے لحاظ سے ان میں با ہم تفاوت ہو سکتا ہے یعنی ایک بہت شوخ رنگ حاشیہ ہے اور ایک کم اور ایک اُس سے کم یہاں تک کہ ایک اُس ادنی مرتبہ پر ہے جس نے رنگ میں سے بہت ہی کم حصہ لیا ہے ۔ سو ایسا شخص جو ر بانی فیض کے رنگ سے کم حصہ رکھتا ہے اُسی کو قرآنی اصطلاح میں شقی کہتے ہیں اور جس نے کافی حصہ لیا اُس کا نام سعید ہے خدا ل النور : ٣٦ تعالی نے اپنی پاک کلام میں مخلوقات کو سعادت اور شقاوت کے دو حصوں پر تقسیم کر دیا ہے مگر اُن کو حسن اور فتح کے دوحصوں پر تقسیم نہیں کیا اس میں حکمت یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ سے صادر ہوا اُس کو بُرا تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ اُس نے جو کچھ بنایا وہ سب اچھا ہے ہاں اچھوں میں مراتب ہیں پس جو شخص اچھا ہونے کے رنگ میں نہایت ہی کم حصہ رکھتا ہے وہ حکمی طور پر بُرا ہے اور حقیقی طور پر کوئی بھی بُرا نہیں ۔ خدا فرماتا ہے کہ میری مخلوق کو دیکھ کیا تو اُس میں کوئی بدی پاتا ہے سو کوئی تاریکی خدا تعالیٰ سے صادر نہیں ہوئی بلکہ جونور سے دور جا پڑا وہ مجاڑ اتاریکی کے حکم میں ہو گیا۔ باوا صاحب کے گرنتھ میں اس کا بہت بیان ہے اور ہر یک بیان قرآن سے لیا گیا ہے مگر اس طرح نہیں کہ جیسے خشک تقلید کے لوگ لیتے ہیں بلکہ سچی باتوں کو سن کر باوا صاحب کی روح بول اُٹھی کہ یہ سچ ہے پھر اس تحریک سے فطرت نے جوش مارا اور کسی پیرایہ میں بیان کر دیا۔ غرض باوا صاحب تناسخ کے ہرگز قائل نہ تھے اور اگر قائل ہوتے تو ہر گز نہ کہتے کہ ہر یک چیز خدا سے پیدا ہوئی اور کوئی بھی چیز نہیں جو اُس کے نور سے پیدا نہیں ہوئی۔ اور یادر ہے کہ بادا صاحب نے اپنے اس قول میں بھی قرآنی آیت کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ ہے اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ