سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 550

سَت بچن — Page 137

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۷ ست بچن اکثر بیانات صرف غیر معقول ہی نہیں بلکہ ان میں اس قدر تناقض ہے اور اس قدر بعض بیانات ۲۵ بعض سے متناقض پائے جاتے ہیں کہ ایک عقلمند کے لئے بجز اس کے کوئی چارہ نہیں کہ اس حصہ کو جو غیر معقول اور قریب قیاس باتوں سے متضاد ہے پا یہ اعتبار سے ساقط کرے ہاں یہ بھی کہیں گے کہ جس قدر اُن میں ایسا حصہ محفوظ ہے کہ نہ تو اُس میں کوئی تناقض اور نہ غیر معقول باتیں ہیں اور نہ لاف و گزاف اور گپ کے طور پر کسی مبالغہ کی اس میں سے بو آتی ہے وہ بیشک سوانح کی مد میں قبول کرنے کے لائق ہے اور یادر ہے کہ یہ تناقض اور اختلاف بیانات جیسا کہ جنم ساکھیوں میں پایا جاتا ہے یہی تناقض با وا صاحب کے اُن اشعار میں بھی ہے جو آ دگرنتھ میں موجود ہیں جیسا کہ پڑھنے والوں اور غور کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں ۔ اکثر حصہ باوا صاحب کے اشعار کا جو گرنتھ میں موجود ہے قرآن شریف کی آیتوں کا ☆ حاشیہ بعض کا یہ اعتراض ہے کہ باوا نا نک صاحب گرنتھ میں تناسخ کے قائل ہیں پھر کیوں کر اُن کا مذہب اسلام ہو سکتا ہے سو واضح ہو کہ ہمیں باو ا صاحب کے کلمات کا بخوبی علم ہے اور ہم نے قریبا تیس برس تک یہ شغل رکھا ہے باوا صاحب اس تناسخ کے ہرگز قائل نہیں جس کے آریہ قائل ہیں جیسا کہ وہ آپ فرماتے ہیں۔ اول اللہ نو ر ا پا یا قدرت کے سب بندے ایک نور تے سب جگ اُپجیا کون بھلے کو مندے یعنی خدا نے پہلے نور پیدا کیا اور پھر اسی نور سے تمام دنیا کو پیدا کیا پس یہ تفریق کیونکر ہو کہ پیدائش کی رو سے کوئی بھلا اور کوئی برا ہے یعنی یہ کہنا کہ کوئی جزا کے طور پر پیدا ہوا اور کوئی سزا کے طور پر یہ سراسر غلطی ہے کیونکہ سب نو ر سے پیدا ہوئے ہیں یہ شعر با وا صاحب کا اواگون یعنی تناسخ کے رد میں ہے کیونکہ تناسخ میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ نیک عمل والوں کو اچھا جنم ملا اور بد عملوں والوں کو برا جنم ملا لیکن حق بات یہ ہے جو با وا صاحب نے فرمائی کہ روحوں میں پیدائش کی رو سے نیک و بد کی تقسیم نہیں ہوسکتی ہاں اعلیٰ اور اونی کی تقسیم ہو سکتی ہے جیسے مثلاً کپڑے ایک ہی رنگ سے رنگے جائیں کوئی ہلکا رنگ اور کوئی ਅਵਲਿ ਅਲਹ ਨੂਰੁ ਉਪਾਇਆ ਕੁਦਰਤਿ ਕੇ ਸਭ ਬੰਦੇ ਏਕ ਨੂਰ ਤੇ ਸਭੁ ਜਗੁ ਉਪਜਿਆ ਕਉਨ ਭਲੇ ਕੋ ਮੰਦੇ