سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 550

سَت بچن — Page 136

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۶ ست بچن ۲۴ خوب صحیح لکھے ہیں جیسا کہ جنم ساکھی میں بیان کیا ہے کہ کعبہ میں ایک پتھر رکھا ہوا ہے اُس کو دھوتے ہیں اور نالیوں سے اُس کا پانی بہتا ہے اسی پانی کو آب زمزم کہتے ہیں۔ اب کہو کہ اگر ایسے خلاف واقعہ اور سراسر جھوٹ بات کو باوانا تک صاحب کی طرف منسوب کیا جائے تو کیا یہ ماننا نہیں پڑے گا کہ نعوذ باللہ باوا صاحب کو جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی ۔ تمام لوگ جانتے ہیں کہ آب زمزم ایک کنوئیں میں سے نکلتا ہے اور وہ کنواں حضرت ابراہیم کے وقت سے مکہ میں موجود ہے اُس کو خانہ کعبہ اور سنگ اسود سے کچھ تعلق نہیں ۔ پھر لکھا ہے کہ باوا صاحب کی امام اعظم سے مکہ میں ملاقات ہوئی حالانکہ امام اعظم صاحب باوا نا نک صاحب کی پیدائش سے سات سو برس پہلے فوت ہو چکے تھے مکہ میں تو اُن کی قبر بھی نہیں غرض ایسی قابل شرم باتیں اور نہایت مکر وہ جھوٹھ جنم ساکھیوں میں پائے جاتے ہیں کہ جو نہ صرف منقول کے مخالف بلکہ عقل اور نقل دونوں کے مخالف ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ باوا صاحب کی وفات کے بعد بہت افتراء اُن پر کئے گئے ہیں اور ان افتراؤں کا وہی زمانہ تھا جبکہ با واصاحب کے بعد بعض نافہموں کے دلوں میں اسلام کے ساتھ کچھ تعصب پیدا ہو گئے تھے یہ وہی لوگ تھے جو بادا صاحب کے نقش قدم پر قائم نہ رہے اس لئے ان کو یہ مشکلیں پیش آئیں کہ وہ تمام امور جو بادا صاحب کے اسلام پر دلالت کرتے تھے اُن سب کی اُن کو تاویلیں کرنی پڑیں مگر چونکہ علم تاریخ اور علم بلاد سے بکلی محروم تھے اس لئے جس قدر اُنہوں نے جھوٹی تاویلیں کیں اُسی قدر اُن کی دروغ گوئی نہایت فضیحت کے ساتھ ثابت ہوئی اور وہ جھوٹ مخفی نہ رہ سکا بلکہ تاریخ دانوں اور جغرافیہ دانوں نے اُن پر ٹھٹھا اڑایا اور اب تک اُڑاتے ہیں اگر وہی جاہلیت کا زمانہ رہتا جو آج سے پچاس برس پہلے تھا تو شاید یہ تمام نا معقول باتیں بعض سادہ لوحوں کی نظر میں قبول کے لائق ہوتیں مگر اب زمانہ اُس طرز کا نہیں رہا اور معقولیت کی طرف بہت پلٹا کھا گیا ہے اور لوگوں کی نظریں باریک اور حقیقت شناس ہوگئی ہیں اب ایسی باتوں کے ماننے کا وقت گذر گیا کہ باوا صاحب نے مدینہ میں بیٹھ کر بالا کی آنکھیں بند کرائیں تو وہ آنکھ بند کرتے ہی کیا دیکھتا ہے کہ پنجاب میں اپنے گاؤں میں بیٹھا ہے ان جنم ساکیوں کے