سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 550

سَت بچن — Page 135

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۵ ست بچن اپنے مذہب کی آپ ہجو کرنا ہے اگر باوا صاحب مکہ میں حج کی نیت سے نہیں گئے تھے بلکہ (۲۳) کرامت دکھلانے گئے تھے تو چاہئے تھا کہ کعبہ کو اُسی جگہ چھوڑ آتے جس طرف پیر تھے اگر زیادہ نہیں تو اپنے مقام مخصوص سے دس میں قدم ہی کم و بیش ادھر ادھر کر آتے یا اپنے پیچھے پیچھے کعبہ کو اپنے گھر تک لے آتے تا اس کرامت کو دوسرے سکھ بھی دیکھ لیتے مگر چونکہ اب تک کعبہ اسی جگہ ہے جس جگہ پر وہ قدیم سے چلا آتا ہے اور مکہ والے باوانا تک صاحب کے نام سے بھی ناواقف ہیں قطع نظر اس سے جو کوئی ایسا اعجوبہ یا در کھتے ہوں تو صاف ظاہر ہے کہ یہ نہایت مکروہ جھوٹ کسی شریر انسان کا افتراء ہے۔ باوا صاحب نے ہرگز ایسا دعویٰ نہ کیا مکہ اسلام کا مرکز ہے اور لاکھوں صلحاء اور علماء اور اولیاء اُس میں جمع ہوتے ہیں اور ایک ادنیٰ امر بھی جو مکہ میں واقع ہوئی الفور اسلامی دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے پھر ایسا عظیم الشان واقعہ جس نے اسلام اور قانون قدرت دونو کو زیر وزبر کر دیا اور پھر ایسے نزدیک زمانہ کا کہ جس پر ابھی پورے چار سو برس بھی نہیں گذرے وہ لاکھوں آدمیوں کو فراموش ہو جائے اور صرف سکھوں کی جنم ساکھیوں میں پایا جائے کیا اس سے بڑھ کر اور کوئی بھی قابل شرم جھوٹ ہوگا۔ عجیب تریہ کہ ان قصوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ باوا صاحب نے مکہ میں پنجابی بھاشا میں باتیں کیں اور مکہ کے رہنے والوں نے بھی پنجابی میں باتیں کیں پھر باوا صاحب مدینہ میں پہنچے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ بھی اُن کے پیروں کی طرف آیا اور وہاں باوا صاحب نے پنجابی بھاشا میں شعر بنائے اور لوگوں نے پنجابی میں جواب دیئے۔ اب فرمائیے کہ یہ کس قدر جھوٹ ہے ظاہر ہے کہ عرب کے باشندے ہندی زبان کو نہیں سمجھ سکتے پھر اُنہوں نے باوا صاحب کی بھاشا کو کیا سمجھا ہوگا۔ اگر یہ قصہ صحیح تھا تو باوا صاحب کی پہلی کرامت یہ چاہئے تھی کہ وہ عربی زبان والوں سے عربی میں ہی بات کرتے اور اُن کے سنانے کیلئے عربی میں شعر بناتے نہ کہ پنجابی میں اور وہ عربی تقریر جو با و اصاحب عربوں کے ساتھ کرتے اور وہ عربی اشعار جوان کو سناتے وہ سب جنم ساکھی یا گرنتھ میں لکھنے چاہئے تھے اگر ایسا کرتے تو بیشک کسی قدر بات بن جاتی مگراب تو بجز مضحکہ عقلاء کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا پھر مکہ میں پہنچنے کے واقعات بھی