سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 550

سَت بچن — Page 134

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۴ ست بچن (۲۲) یہ بھی لکھا ہے کہ نانک جی کی برہما سے ملاقات ہوئی بڑی بحث کی سب دیوتوں نے اُن کی تعظیم کی ۔ نانک جی کے بیاہ میں گھوڑے ہاتھی رتھ سونا چاندی پناموتی وغیرہ رتنوں سے جڑے ہوئے تھے اور اُن کا کچھ حد و حساب نہ تھا بھلا یہ گپ نہیں تو اور کیا ہے۔ اقول یہ آخری قول پنڈت دیا نند کا ہمارے نزدیک کسی قدر صحیح ہے مگر اس کو باوا نا نک صاحب سے کچھ تعلق نہیں ۔ ہاں اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض نادان دوستوں نے کئی طور سے ایسے افتراء کئے ہیں جن میں شاید اُن کی یہ غرض تھی کہ باوا صاحب کی اس سے تعریف اور بزرگی ثابت ہوگی مگر اُن کو یہ خبر نہیں تھی کہ نا معقول اور بیہودہ افتراؤں سے کسی کی بزرگی ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ آخر کار یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایسے مفتری اور یاوہ گولوگوں پر اُس بزرگ کی برکات کا کچھ بھی اثر نہ پڑا۔ سو بعض ایسے لوگوں کی نسبت جنہوں نے بے تحقیق با وا صاحب کی سوانح میں غلط باتیں ملا دیں ضرور یہ کہنا پڑتا ہے جو انہوں نے احتیاط اور دیانت سے کام نہیں لیا اور ایسی باتیں جو شرم اور حیا سے بھی بعید ہیں منہ سے نکالیں جیسا کہ یہ ایک جھوٹا قصہ کہ باوا صاحب جب مکہ میں گئے تو جس طرف پاؤں کرتے تھے مکہ اسی طرف آجاتا تھا کیا یہ قصہ مہادیو کی لٹوں سے گنگا نکلنے سے کچھ کم ہے اس قدر تو سچ ہے کہ چونکہ باوا صاحب ملت اور مذہب کی رو سے اہل اسلام تھے اس لئے حج کرنے کے لئے بھی گئے لیکن واقعات صحیحہ پر ایسے حاشیے چڑھا دینا جو سراسر عقل اور قرائن صحیحہ کے مخالف ہیں کسی متدین کا کام نہیں جس شہر کی ایک لاکھ سے زیادہ آبادی ہے وہ کیسے بادا صاحب کے پیروں کی طرف معہ تمام باشندوں کے بار بار آتا رہا۔ اور اگر مکہ سے مراد خانہ کعبہ ہے تو پھر ایسا قصہ بجز اس کے کہ مسلمانوں کا دل دُکھا یا جاوے اور ایک بیہودہ اور بے ثبوت یاوہ گوئی سے اُن کو ستایا جائے کوئی اور ماحصل نہیں رکھتا مگر جن لوگوں نے باوا صاحب کو خدا کے برابر بنا رکھا ہے اگر وہ بیت اللہ کی تحقیر کریں تو ہم اُن پر کیا افسوس کریں ایسے زمانہ میں جو اکثر لوگ تربیت یافتہ ہو گئے ہیں اور صدق اور کذب میں تمیز کرنے کا مادہ بہتوں میں پیدا ہو گیا ہے ایسے لغو قصے مشہور کرنا ایک طور سے ی نوٹ ۔ اگر نانک جی رئیس نہیں تھے اور نہ رئیس زادے تھے تو بھلا شکر ہے کہ دیا نند تو کسی ملک کا بڑا رئیس تھا جس کے معمولی حسب ونسب کا بھی اب تک کوئی صحیح صحیح پتہ نہیں ملا۔ منہ