سَت بچن — Page 133
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۳ ست بچن بیزار نہ ہو جاتے تو کوئی بھی پنڈت اُن کو برا نہ کہتا۔ اب تو با وا صاحب ان پنڈتوں کی نظر میں کچھ ۲۱ بھی نہیں وید کے مکذب جو ہوئے۔ قولہ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ویدوں کو نہ سنا نہ دیکھا۔ کیا کریں جو سننے اور دیکھنے میں آویں تو بڑ ھمان لوگ جو کہ میٹھی ڈرا کر ہی نہیں ہیں وے سب سمپر دائے والے ویدمت میں آ جاتے ہیں یعنی نانک وغیرہ اُس کے سکھوں نے نہ دیدوں کو سنا نہ دیکھا کیا کریں جو سننے یا دیکھنے میں آویں تو جو عقلمند متعصب نہیں وہ فوراً اپنی ٹھگ بد یا چھوڑ کر وید کی ہدایت میں آجاتے ہیں۔ اقول اس تمام تقریر سے پنڈت صاحب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ باوانا نک صاحب اور اُن کے پیر و ٹھگ ہیں انہوں نے دنیا کے لئے دین کو بیچ دیا مگر ہر چند یہ تو سچ ہے کہ باوا نا نک صاحب نے وید کو چھوڑ دیا اور اُس کو گمراہ کرنے والا طومار سمجھا لیکن پنڈت صاحب پر لازم تھا کہ یوں ہی باوا صاحب کے گرد نہ ہو جاتے اور ٹھگ اور مکار اُن کا نام نہ رکھتے بلکہ اُن کے وہ تمام عقیدے جو گر نتھ میں درج ہیں اور مخالف وید ہیں اپنی کتاب کے کسی صفحہ کے ایک کالم میں لکھ کر دوسرے کالم میں اُس کے مقابل پر وید کی تعلیمیں درج کرتے تا عقلمند خود مقابلہ کر کے دیکھ لیتے کہ ان دو تعلیموں سے سچی تعلیم کونسی معلوم ہوتی ہے ظاہر ہے کہ صرف گالیاں دینے سے کام نہیں نکلتا ہر یک حقیقت مقابلہ کے وقت معلوم ہوتی ہے اور ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔ قولہ نانک جی بڑے ڈھنا ڈھیہ اور رئیس بھی نہیں تھے پر تو ان کے چیلوں نے نانک چند رو دئے اور جنم ساکھی آدی میں بڑے بدھ اور بڑے بڑے ایشوز یہ والے تھے لکھا ہے۔ نانک جی برہما آدی سے ملے بڑی بات چیت کی سب نے ان کا مانیہ کیا۔ نانک جی کے دواہ میں بہت سے گھوڑے، رتھ ، ہاتھی ، سونے، چاندی، موتی، پنا آدمی رتنوں سے جڑے ہوئے اور امولیہ رتنوں کا پارا وار نہ تھا لکھا ہے بھلا یہ گھوڑے نہیں تو کیا ہیں؟ یعنی نانک جی کہیں کے مالدار اور رئیس نہیں تھے مگر اُن کے چیلوں نے پوتھی نانک چند رو دے اور جنم ساکھی وغیرہ میں بڑے دولتمند اور بھگت کر کے لکھا ہے