سناتن دھرم — Page 474
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۷۲ سناتن دھرم کوئی حیا والا آدمی اس کو پسند نہیں کرے گا کہ اپنے جیتے جی اپنی عورت کی یہ حالتیں دیکھے مگر ہماری جماعت کو جو تقویٰ کے لئے قائم کی گئی ہے۔ خوب یا در ہے کہ وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ وید کی تعلیم ہے۔ میری رائے یہی ہے کہ یہ وید کی ہرگز تعلیم نہیں میں خوب جانتا ہوں کہ کبھی ایک شرتی یا ایک آیت کے بیس معنے ہو سکتے ہیں۔ پس ایسے موقعہ پر ایک گندہ آدمی گندے معنے کر لیتا ہے اور ایک پاک طبع آدمی پاک معنے کرتا ہے بعض آدمی اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ اپنے بعض نفسانی اغراض کے لئے قوم میں بدچلنی پھیلانی چاہتے ہیں ۔ پس وہ بہانہ ڈھونڈنے کے لئے کسی ایسی کتاب میں سے جو قوم اس کو آسانی سمجھتی ہے کوئی شہر تی یا آیت پیش کر دیتے ہیں اور اس طرح پر نادانوں کو ہلاک کر دیتے ہیں ۔ پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس قسم کے طریقوں سے دست کش رہیں کہ یہ طریقے احتیاط اور پر ہیز گاری کے برخلاف ہیں۔ ایسی مشترک باتیں جو کم و بیش تمام قوموں میں پائی جاتی ہیں اُن کو اعتراض کے طور پر پیش کرنا سراسر جہالت یا تعصب ہے جس کو آریہ صاحبان دکھلا رہے ہیں۔ مثلاً بیویاں کرنا یا ضرورت کے وقت طلاق دینا یا اور ایسے امور جن کا اشتراک سب قوموں میں پایا جاتا ہے ان کو بطور اعتراض پیش کرنا کسی شریف آدمی کا کام نہیں کہ یہ باتیں ہر ایک قوم میں پائی جاتی ہیں۔ در حقیقت اعتراض کے لائق دو باتیں ہیں۔ اول یہ کہ ارواح اور اجسام یعنی جیو اور پر مانو خدا سے نکلے ہوئے نہیں یعنی خدا کی مخلوق نہیں بلکہ خدا کی طرح اپنے وجود کے آپ خدا ہیں اور انا دی ہیں۔ دوسری یہ قابل شرم طریق جس کا نام نیوگ ہے۔ سو یہ اعتراض وید پر نہیں بلکہ پنڈت دیانند پر ہے جس نے ایسا مذہب شائع کیا۔ ہماری جماعت خبر دار رہے کہ خواہ نخواہ احتیاط سے بڑھ کر کوئی بات منہ سے نہ نکالے ۔ یہ درست ہے کہ آریہ سماجیوں میں تیز زبان بہت لوگ ہیں جو اعتراض کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ کہاں تک ہمیں اس اعتراض کے بارے تحقیق ہے بلکہ جو کچھ منہ میں