سناتن دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 473 of 566

سناتن دھرم — Page 473

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۷۱ سناتن دھرم نہیں جو طلاق کا مخالف ہو کسی نہ کسی ضرورت سے بعض وقت طلاق دینی پڑتی ہے۔ غرض جب آریہ صاحبوں کو ایسے قابل شرم کام سے منع کیا جاتا ہے تو کھسیانے بن کر یہی جواب دیتے ہیں کہ مسلمانوں میں بھی تو طلاق کی رسم ہے۔ اے حضرات یہ رسم کس مذہب میں نہیں۔ جب مرد و عورت میں سخت مخالفت ہوگی تو بجز طلاق اور کیا چارہ ہوگا ۔ مناسب ہے کہ آپ صاحبان ایسی باتیں نہ کریں اور نیوگ کو چھوڑ دیں۔ ان باتوں سے بھی کیا فائدہ کہ نیوگ میں بڑے فائدے اور بڑے بھید ہیں۔ اے حضرات اگر زیادہ نہیں تو طاعون کے دنوں تک ہی ایسی رسم سے دست بردار رہو ایسا نہ ہو کہ ایسے کاموں سے اور بھی یہ بلا پھیلے۔ افسوس کہ باوجود اس رسم نیوگ کے جس سے شرمندہ ہونا چاہئے تھا آریہ صاحبوں میں بد زبانی بہت بڑھ گئی ہے بعض شریف آریہ صاحبان اس جلسہ قادیان کی تقریب پر خود آ کر مجھے ملے ہیں اور خود انہوں نے اقرار کیا ہے کہ اس جلسہ میں بہت سی گندہ زبانی سے کام لیا گیا ہے خاص کر ایک شخص کا اکثر آریہ صاحبوں نے ذکر کیا کہ وہ تیز اور گندہ زبان تھا۔ پس واضح ہو کہ مذہب اس بات کا نام نہیں کہ بغیر سوچے سمجھے اعتراض کر دینا اور ٹھٹھے سے جلسہ کو رونق دینا اور بہروپیوں کی طرح ہنسی کرنا اس طرح پر کوئی مذہب قائم نہیں ہو سکتا نیک انسانوں کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ کسی فرقہ کے شائع کردہ اصولوں پر اعتراض کریں مگر کسی قوم کی آسمانی کتاب پر اُس وقت تک اعتراض نہ کریں جب تک کہ اُن کو پوری واقفیت اور پورے دلائل سے علم نہ ہو ۔ مثلاً نیوگ کا مسئلہ ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ باوجود خاوند کے زندہ ہونے کے اس کی عورت کا دوسرے سے ہم بستر ہونا نہ ایک دفعہ نہ دو دفعہ بلکہ بارہ تیرہ برس تک جب تک گیا لاہ بچے پیدا ہو جائیں انسانی کانشنس اس بے حیائی کو قبول نہیں کرتا اور ہر ایک نیک فطرت اس (۵) طریق سے دور بھاگتی ہے ۔ اور درحقیقت اس سے زیادہ کوئی بے حیائی نہیں اور