روئداد جلسۂ دعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 648 of 769

روئداد جلسۂ دعا — Page 648

۔بد زبان وکیل کی مدد کے لئے بھی طاقت نہ تھی۔اس بے اختیار ایشور کے مردہ وجود میں۔یہ جوان دراصل باغ بہشت کے درخت کی شاخ ہے۔باغبان نے اس کو پانی دیا اور وہ درخت پھلدار ہوگیا۔ہر وہ شخص جو حماقت سے اس کے تنے پر آریہ چلاتا ہے دراصل اپنے ہی پاؤں کاٹتا ہے اور اس کی جان بھی آگ میں جلتی ہے۔اس کی جبیں پر راستی سے ہمیشہ نور حق چمکتا ہے اور اس کے سیاہ بالوں کی خوشبو جہاں میں عطر کی طرح پھیل گئی ہے۔میرے دل میں اس بدر الدجیٰ چاند کی ثناء جوش مارتی ہے لیکن اس بحر بے کنار کی تشریح بیان کرنا ممکن نہیں۔یہ اس شہ خوباں کا غلام ہے کہ جس کا نام ہے مصطفیٰ۔وہ کہ جس نے خدا کی توحید سے ان بتوں پر کلہاڑا چلایا جو کہ گھر کے دروازے پر تھے۔جہان پر نصرانی بتوں کا عجز ثابت کردیا اور ایک دیرینہ میت (محلہ) خانیار سے اپنا چہرہ نمودار کردیا۔خوشنوا عندلیب قدس و جلال کے باغ سے خدا کے عشق میں نغمہ زن بلند شاخ پر آ بیٹھا ہے۔آسمانی پہلوان جو کہ عزت و شان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہے اور اس کے دائیں بائیں فرشتے حاضر خدمت ہیں۔اس نے خدا کی قدرت سے حق کی طاقت کے کارنامے دکھلائے اور مردار خور منکرین کے پردے پھاڑ ڈالے۔کوئی مقابلے کے لئے اس کے سامنے میدان میں نہیں آتا اور دشمن بھونکتے ہوئے غار کے ایک کونے میں (چھپے) بیٹھے ہیں۔عالم کے در و دیوار پر سخت زلزلہ آگیا جب اس نامدار (پہلوان) نے میدان جنگ میں نعرہ لگایا۔وہ صدر محفل اور پیشوا اور مومنوں کا راہنما ہے۔دین کی تائید کے لئے مسلسل نشان ظاہر ہورہے ہیں صفحہ ۶۳۲۔(قادیان)دارالامان آسمانی فیض سے آراستہ ہوگیا نیز خلق و عالم اور اس کے گرد و نواح بھی منور ہوگئے۔صدق و صفا کے باعث سلطنت کا خیر خواہ ہوگیا نہ کہ مکر و چاپلوسی سے بلکہ کردگار کے حکم سے۔خدا تعالیٰ نے جو فرما دیاکہ نیکوں کے ساتھ نیکی (اور) جاہل اور مجنوں اس بات سے اپنا سر پھیرتا ہے