روئداد جلسۂ دعا — Page 643
۔میرا سر احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک پا پر نثار ہے اور میرا دل ہر وقت محمدؐ پر قربان رہتا ہے۔رسول اللہ کی زلفوں کی قسم کہ میں محمدؐ کے نورانی چہرے پر فدا ہوں۔اس راہ میں اگر مجھے قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جاوے تو پھر بھی میں محمدؐ کی بارگاہ سے منہ نہیں پھیروں گا۔دین کے معاملہ میں مَیں سارے جہان سے بھی نہیں ڈرتا کہ مجھ میں محمدؐ کے ایمان کا رنگ ہے صفحہ ۳۸۳۔دنیا سے قطع تعلق کرنا نہایت آسان ہے محمدؐ کے حسن واحسان کو یاد کر کے۔اُس کی راہ میں میرا ہر ذرّہ قربان ہے کیونکہ میں نے محمدؐ کا مخفی حسن دیکھ لیا ہے۔میں اور کسی استاد کا نام نہیں جانتا میں تو صرف محمدؐ کے مدرسہ کا پڑھا ہوا ہوں۔اور کسی محبوب سے مجھے واسطہ نہیں کہ میں تو محمدؐ کے نازو ادا کا مقتول ہوں۔مجھے تو اسی آنکھ کی نظرِ مہر درکار ہے۔میں محمدؐ کے باغ کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔میرے زخمی دل کو میرے پہلو میں تلاش نہ کرو کہ اسے تو ہم نے محمدؐ کے دامن سے باندھ دیا ہے۔میں طائرانِ ُقدس میں سے وہ اعلیٰ پرندہ ہوں جو محمدؐ کے باغ میں بسیرا رکھتا ہے۔تو نے عشق کی وجہ سے ہماری جان کو روشن کر دیا اے محمدؐ تجھ پر میری جان فدا ہو۔اگر اس راہ میں سو جان سے قربان ہو جاؤں تو بھی افسوس رہے گا کہ یہ محمدؐ کی شان کے شایاں نہیں۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمدؐ کے میدان میں کوئی بھی) مقابلہ پر(نہیں آتا۔اے نادان اور گمراہ دشمن ہوشیار ہو جا اور محمدؐ کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر۔خدا کے اس راستہ کو جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے تو محمدؐ کے آل اور انصار میں ڈھونڈ۔خبردار ہو جا! اے وہ شخص جو محمدؐ کی شان نیز محمدؐ کے چمکتے ہوئے نور کا منکر ہے۔اگرچہ کرامت اب مفقود ہے مگر تو آ اور اسے محمدؐ کے غلاموں میں دیکھ لے صفحہ ۳۹۴۔وہ مخالف جو ہفتہ کے دن زندہ تھا اتوار کو اس کا کوئی نشان نہ رہا۔آج وہ لیکھرام کہاں ہے؟ اتوار کے دن سب خاص و عام پوچھ رہے ہیں