روئداد جلسۂ دعا — Page 639
۔دیکھ تو سہی میرے اس گھر پر ُنور برس رہا ہے لیکن اگر تو نابینا ہو تو کیونکر دیکھ سکتا ہے۔تو جس کا کام عورتوں کی طرح صرف زینت اور دنیا کی ہوس ہے تیرے دل میں ہدایت کی رغبت کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔اُن لوگوں کے ایک بازو پر ہزار زاہد قربان ہوں جن کی جان دینِ حق پر فدا ہے۔وہ خدا کی محبت کے اسیر اور اُس کے حسن کے پجاری ہیں اور اُس راہ پر چلنے والے ہیں جو فنا کا راستہ ہے۔امامِ وقت میدانِ کار زار کا وہی پہلوان ہے جس کے سر پر تلوار ہے اور سر خدا کے حضور میں ہے۔تو جوانمردوں کے اخلاق کی قدر کیا پہچان سکتا ہے کہ تیری تو سب خصلتیں عورتوں کی سی ہیں۔اُن کے نزدیک دنیا اور دنیا کی عزت ایسی حقیر ہے جیسے تیری نظر میں بوریے کا ایک تنکا۔چاند اُن کے منہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ اُس کا نور سورج سے ہے اور اُن کا نور خدا سے۔یہ لوگ بارگاہِ خداوندی میں صاحب عزت ہیں اور اُن کی آہ وزاری کی دعا آسمان کو چیر دیتی ہے۔میں ساتوں آسمانوں میں کسی کو اُن کا مثیل نہیں دیکھتا خواہ ہر آسمان ُنور کا چشمہ ہی کیوں نہ ہو۔اُن کی صحبت کے باعث گناہ کے جذبات کا فور ہو جاتے ہیں اور اُن کے چمن میں وہ بہار جوش مارتی ہے جو دل کو فرحت دینے والی ہے۔تو ہزار کوشش کر یہ نفس کا تانبا سونا نہیں بنے گا مگر اُن کی دوستی جو کیمیا کا اثر رکھتی ہے (یہ بات ہو سکتی ہے)۔اگر تو آپ ہی اُن سے بھاگے تو خیر ورنہ یہ ناممکن ہے کہ اُن کی مہربانی کا سایہ تجھ سے الگ ہو جائے۔یہ لوگ حرص وہوا کے غبار کو پیروں میں مسل ڈالتے ہیں کہ اپنی خواہش کی خاطر دوست کو چھوڑنا ظلم ہے۔میرے مر ّبی نے مجھے اس اپنے گروہ میں داخل کیا ہے ایسے جذبہ کے ساتھ جس کی حد وانتہا نہیں ہے صفحہ ۱۳۶۔خلقت کی آنکھیں میری روشنی کو چاند کی طرح دیکھ سکتی ہیں بشرطیکہ حجابوں سے نجات حاصل ہو۔میں انہیں ہزاروں قسم کے نشانات دکھاؤں گا بشرطیکہ صبر سے ہمارا امتحان کیا جائے۔برکتوں کی بارش کی کثرت سے فلک زمین کے نزدیک آگیا خدا کا طالب کہاں ہے تاکہ اُس کا یقین بڑھے۔ایسا دل کہاں ہے جس میں خدا کا خوف ہو اور ایسی پتلی آنکھ کی کہاں ہے جس میں شرم وحیا ہو