روئداد جلسۂ دعا — Page 638
۔نہ صرف بلعم ہے بلکہ بلعم سے بھی بدتر وہ نادان ہے جس کی لڑائی خدا کے کلیم کے ساتھ ہوائے نفس کے ماتحت ہو۔میں اُس پنجرہ سے نکل کر اڑ چکا ہوں جس کا نام دنیا ہے اب تو عرش کے کنگرہ پر ہماری جگہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے باغ میں میرا گزر ہوا ہے میرا مقام برگزیدگی اور تقدس کا چمن ہے۔پاکیزگی اور صدق وصفا کا کمال جو معدوم ہو گیا تھا وہ دوبارہ میرے کلام اور وعظ سے قائم ہوا ہے۔اے وہ شخص جو بالکل بے خبر ہے میری بات سے ناراض نہ ہو کہ جو میں نے کہا ہے یہ خدا کی وحی سے کہا ہے۔جو شخص اپنی خودی کو چھوڑ کرخدا کے نور میں جا ملا اُس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات حق ہو گی۔میں جنگ وجدال اور جہاد کے لئے نہیں آیا میرے آنے کی غرض تو تقویٰ کا سبق پڑھانا ہے۔ہم ذلت کی خاک اور لوگوں کی لعنتوں پر راضی ہو گئے اس لئے کہ نیستی کا پھل بقا ہوا کرتا ہے۔میرا باطن اُس نور کی محبت سے بھرپور ہے جس سے گمراہی کے زمانہ میں روشنی ہوا کرتی ہے۔اُس کے چہرہ کے عشق کی قید کے سوا کوئی آزادی نہیں اور اُس کا درد ہی سب بیماریوں کا علاج ہے۔اُس کا فضل وکرم ہر وقت میری پرورش کرتا ہے اگر تیری آنکھیں کھلی ہیں تو تجھے یہ بات نظر آجائے گی۔قدرت کے کارخانے میں ہزاروں نقش ہیں مگر رحمن کا جلوہ صرف ہمارے نقش سے نظر آتا ہے۔میں اس لئے آیا ہوں کہ صدق کی راہ کو روشن کروں اور دلبر کے پاس اُسے لے چلوں جو نیک وپارسا ہے۔میں اس لئے آیا ہوں کہ علم وہدایت کا دروازہ کھولوں اور اہل زمین کو وہ چیزیں دکھاؤں جو آسمانی ہیں صفحہ ۱۳۵۔تجھے ہمارے انکار کا حق نہیں کیونکہ تو نامرد ہے تو عورتوں کے ساتھ بیٹھ اگر تجھے کچھ شرم ہے۔میرے جان ودل دین کی حمایت کے لئے گداز ہو گئے مگر تیری آنکھ اب بھی اندھی ہے یہ کیسا ظلم ہے۔تجھے کیا فکر۔اگر دین معدوم ہو جائے کہ تیرا دل تو ہر لحظہ حرص وہوا کے لئے کباب ہو رہا ہے۔تو بے تعلقی کی وجہ سے خود ہی دور ہو گیا ورنہ خدا کے دروازہ سے تو بلانے کی آواز ہر طرف جاتی ہے۔تو رحمان کی شکایت نادانی کی وجہ سے کیوں کرتا ہے ُتو پاکباز بن تا کہ اُدھر سے بھی صفائی کا سلوک ہو۔ایسا وقت، ایسا زمانہ اور ایسی ایسی برکتیں !پھر بھی اگر تو بے نصیب رہے تو اس بدبختی پر کیا تعجب ہے