روئداد جلسۂ دعا — Page 640
۔دنیاوی عزت اور عہدوں پر اے سمجھ دار انسان ناز نہ کر کہ تیرا یہ عیش وآرام دائمی نہیں ہے۔تیرا یہ اچھا زمانہ خواب کی طرح گزر جائے گا یہ امید مت رکھ کہ یہ حال ہمیشہ اسی طرح باقی رہے گا۔تو نماز پڑھتا ہے مگر قبلہ ئِ مقصود سے غافل ہے میں نہیں جانتا کہ ایسی نمازوں کا کیا فائدہ ہے۔حشر کا ذکر سننے سے آنکھیں خون چکاں ہو جاتی ہیں بشرطیکہ دل میں خدا کا خوف ہو۔قلبِ سیاہ کے ساتھ خدا کے وصل کی آرزو! افسوس کی بات ہے خدا تک تو وہی پہنچتا ہے جو اپنے آپ کو اس کی راہ میں فنا کر دے۔روحانی لوگوں کی منزل میں قدم رکھ کہ بغیر اس کے دنیا اور دنیا کے سب کام ابتلا ہی ابتلا ہیں۔یہ آرام کی نیند اور امن اور عیش وعشرت کی جگہ کب ہے جبکہ موت کا مگرمچھ ہر وقت پیچھے لگا ہوا ہے۔محبوب سے دل لگانے میں ساری کامیابی ہے کیا حسین چہرہ ہے جس کا قیدی آزاد ہے۔ہزار شکر کہ میں نے اپنے یار کا منہ دیکھ لیا اور وہ سب مزے چکھ لئے جن میں لقا کی لذت ہے؟۔میں منکر انِ دین کے غرور وتکبر کو توڑ رہا ہوں لو میں حاضر ہوں میرے مقابل پر کوئی دوسرا کہاں ہے۔میں روشن اور چمکدار سورج کی طرح ُنور پھیلا رہا ہوں۔دوسرا کہاں ہے؟ اور ایسی قدرت کس میں ہے؟۔وہ کام جو میں کرتا ہوں اور اُن نشانوں سے جو میں دکھاتا ہوں یہی ظاہر ہوتا ہے کہ میرا سارا کاروبار خدا کی طرف سے ہے۔اب جبکہ میرے چمن میں ہزاروں پھول کھل چکے ہیں اگر تو طلب نہ کرے تو سخت غلطی ہو گی۔تو عمر مانگ اور صبر طلب کر حتی کہ وہ وقت آجائے جبکہ ہمارے سورج کی روشنی نابینائی کو دور کرنے والی ہو جائے۔دل کی گرہ کھول دے اور ہمارے کام کو غور سے دیکھ اگر تیرا دل صاف ہو گا تو تجھے مصفّٰی عقل بھی ملے گی۔تجھے کیا ہوا کہ سوگ میں زارو نالاں بیٹھا ہے حالانکہ موسم تو ایسا ہے کہ ہر پرندہ چہچہا رہا ہے۔تفرقہ اندازی کا خیال چھوڑ دے کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام اہل اللہ اور متقی لوگوں کو جمع کیا جائے صفحہ ۱۳۷۔خدا کا ازلی ارادہ یہ زمانہ اور یہ وقت لایا ہے تو ہے کیا چیز کہ اس قضا وقدر کو پلٹ دے۔بے وقوفی سے چلا نہ جا بلکہ ہمارے پاس آکر بیٹھ کہ اہل اللہ کا سایہ شفا کا موجب ہوا کرتا ہے