روئداد جلسۂ دعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 636 of 769

روئداد جلسۂ دعا — Page 636

۔حادثات کی غارت گری دین کی بنیاد کو ہلا دے اگر ہمارے مذہب سے ان لوگوں کا سایہ الگ ہو جائے۔یہی وجہ ہے کہ جب صدی کے سال ختم ہوتے ہیں تو ایسا مرد ظاہر ہوتا ہے جو دین کے لئے نائبِ خدا ہوتا ہے۔مجھے غیب سے یہ خوشخبری ملی ہے کہ میں وہی انسان ہوں جو اس دین کا مجدد اور راہ نما ہے۔ہمارا جھنڈا ہر خوش قسمت انسان کی پناہ ہو گا اور کھلی کھلی فتح کا شہرہ ہمارے نام ہو گا۔اگر مخلوقات ہماری طرف دوڑ کر آئے تو تعجب نہ کر کہ جہاں دولتمند ہوتا ہے وہاں فقیر جمع ہو جاتے ہیں۔وہ پھول جو کبھی خزاں کا منہ نہیں دیکھے گا وہ ہمارے باغ میں ہے اگر تیری قسمت یاور ہو۔میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ میں ہی مسیح ہوں اور میں ہی اس پادشاہ کا خلیفہ ہوں جو آسمان پر ہے۔یہ بات مقدر ہو چکی ہے کہ ایک دن روئے زمین پر ہزاروں جان ودل میری راہ میں قربان ہوں گے۔مری ہوئی زمین بھی دمِ عیسیٰ کو چاہتی ہے جو آپ بے عمل ہوں اُن کے وعظ کا اثر کہاں ہوتا ہے۔فضل کے دروازے کھولے گئے ہیں اگر تو اب بھی نہ آئے۔تو یہ تیری بدبختی کی نحوست ہے۔بے ہودگی سے تو اُس مسیح اور مہدی کا طلبگار نہ ہو۔جس کا کام سراسر خونریزی اور جنگ ہو گا۔اے میرے عزیز ! دین کی تائید کا اور ہی رستہ ہے، یہ نہیں کہ اگر کوئی انکا رکرے توتو فوراً تلوار نکال لے۔اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ تو دین کی خاطر تلوار کھینچے وہ دین دین نہیں جس کی بنا خونریزی پر ہو۔جبکہ دین مدلل معقول اور روشن ہو تو وہ کون سا دل ہو گا جسے ایسے مذہب سے انکار ہو؟۔جب دین صحیح ہو تو اس کے لئے خنجر درکار نہیں کیونکہ بادلائل کلام کی طاقت معجز نما ہوتی ہے۔چونکہ تو ابھی نفسانی خواہشات کے چکر سے نہیں نکلا اس وجہ سے تیری ساری خواہش ظالمانہ جبر کے لئے ہے صفحہ۱۳۳۔دنیا میں جبر سے حجت قائم نہیں ہوتی اگر تجھے عقل ہے تو جا اور اس کے برخلاف دلائل پیش کر۔جبر سے تو راست بازوں کی جماعت ٹوٹ جاتی ہے اسی وجہ سے جبر کا طریق غلط ہے۔خبردار ہو کہ جبر تو خود شکست کی دلیل ہے اس سے لوگوں کے دلوں کی تسلی کہاں ہوتی ہے؟۔تو اس بات کی وجہ سے مجھ پر کفر کا الزام لگاتا ہے کیونکہ تیرے نزدیک نیکوں کو کافر کہنا درست ہے۔اگر یہ تیرا قول ہے تو کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ جو بے ہنر ہوتا ہے وہ بکواسی ہوتا ہے